زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 331

زریں ہدایات (برائے طلباء) 331 جلد سوم ہے یا د نیا کو دھوکا دے رہا ہے۔ایک عیسائی ، ایک سناتنی ، ایک آریہ، ایک سکھ ، ایک مسلمان ان میں سے ہر ایک جو اپنے مذہب کو سچا تسلیم کرتا ہے اس کے لئے یہ فرض کا سوال نہیں بلکہ ناممکن ہے کہ وہ اپنا مذ ہب دوسروں کے سامنے پیش نہ کرے۔اور اگر پیش نہ کرے تو یقینا دو باتوں میں سے ایک ہوگی۔یا تو وہ خود دھوکا خوردہ ہوگا یا دوسروں کو دھوکا دے رہا ہو گا۔اور مذہب کو سچا سمجھنا ہمارے ساتھ ہی مخصوص نہیں دوسرے مذاہب کے لوگ بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔میں نے عیسائیوں کی کتابیں پڑھی ہیں وہ اپنے مذہب کی سچائی پر بہت زور دیتے ہیں۔اسی طرح دیگر مذاہب کے لوگ کرتے ہیں۔عیسائیوں میں ایسے لوگ ہیں جو مذہب کی خاطر جانیں قربان کرتے رہتے ہیں۔امریکہ سے چین میں کئی مشنری آئے اور انہوں نے جانیں دیں۔ان میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی۔اور ایک کے مارے جانے پر دوسرا اس کی جگہ لینے کے لئے آجاتا اور جان دینے کی کوئی پرواہ نہ کرتا۔اگر وہ اپنے مذہب کو سچانہ مجھتے تو پھر جانیں کیوں دیتے۔جان دینا، ملک چھوڑنا اور روپیہ خرچ کرنا کوئی آسان بات نہیں ہے۔یہ تمام قربانیاں وہ مذہب کے لئے کرتے ہیں۔اس سے ماننا پڑتا ہے کہ ان کا مذہب ہمارے نزدیک خواہ سچا نہ ہو لیکن وہ لوگ نیک نیت اور بنی نوع انسان کے خادم ضرور ہیں۔اور ان کے منہ سے جو بات نکلے وہ کسی کو بری نہیں لگنی چاہئے۔وہ شخص جو نیک نیتی کے ساتھ سمجھتا ہے کہ ہم غلطی پر ہیں اور وہ کوشش کرتا ہے کہ ہمیں غلطی سے نکالے اس کی بات سن کر تو ہمارا دل اس کی محبت سے بھر جانا چاہئے۔مجھے تو خواہ کوئی ہندو، عیسائی یا سکھ آکر اپنے مذہب کی دعوت دے تو میرا دل اس کی محبت سے بھر جاتا ہے اور اسے قابلِ تعریف سمجھتا ہوں۔ہم جس چیز کو نا پسند کرتے ہیں اور جسے سب کو نا پسند کرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ دوسروں کے بزرگوں اور قابل احترام راہ نماؤں کو بلاوجہ برا کہا جائے۔دنیا میں ہر شخص اپنی محبوب چیزوں سے پیار اور محبت رکھتا ہے اور ان کے متعلق برے الفاظ سننا پسند نہیں کرتا۔میں نہیں سمجھتا کبھی شریف انسان یہ پسند کریں کہ بازار میں جا کر ایک دوسرے کی ماں بہن کو گالیاں دیں۔کسی فلسفہ کے ماتحت نہیں بلکہ نیچر میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ کوئی انسان ماں باپ کے خلاف بری بات نہیں سن سکتا۔اور جب کوئی ماں باپ کے متعلق برے الفاظ نہیں سن سکتا تو