زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 330

زریں ہدایات (برائے طلباء) 330 جلد سوم مذاہب کے لوگوں کے آپس میں ہونے چاہئیں۔میں نہیں سمجھ سکتا اسے بدقسمتی کہوں یا خوش قسمتی کیونکہ میں انجام سے واقف نہیں ہوں۔انجام اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔لیکن واقعات ایسے ہیں کہ ہمارے ملک کے مختلف مذاہب اور مختلف اقوام کے لوگوں کے آپس کے تعلقات ایسے اچھے نہیں جیسی اچھی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔باوجود اس کے کہ بعض لوگوں کے دل میں خواہش ہے اور وہ کوشش بھی کرتے ہیں کہ آپس کے تعلقات بہتر ہوں مگر تعلقات بگڑتے جارہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں مسلمان ہونے کے لحاظ سے یہ بہترین نصیحت ہوگی جو میں بچوں کو کروں گا کہ وہ ملک کی موجودہ فضا کو بدلنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔اس لئے بھی کہ یہ ملک کی بہترین خدمت ہے اور اس لئے بھی کہ ہماری جماعت تبلیغی جماعت ہے۔اور چونکہ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم دوسرے لوگوں کو اپنے اندر داخل کریں اس وجہ سے ہماری وہ کوششیں جو لوگوں کی عام بھلائی اور بہتری سے تعلق رکھتی ہیں انہیں بھی لوگ اچھی نظر سے نہیں دیکھتے۔گو ہمارا فعل اُس ڈاکٹر کی طرح ہوتا ہے جو نشتر لے کر چیرتا پھاڑتا ہے لیکن ڈاکٹر کی نیت کی تو لوگ تعریف کرتے ہیں کیونکہ وہ کسی قسم کے اختلاف کے نیچے نہیں دبی ہوتی اور اس کے کام کو اچھا سمجھتے ہیں۔لیکن جو عقائد کے اختلاف کے ساتھ کام کرتا ہے اسے برا سمجھتے ہیں۔اس وجہ سے ہماری وہ نبیت اور ارادہ جولوگوں کی بھلائی اور بہتری کے لئے ہوتا ہے بہت پوشیدہ ہے۔ہمیں ضرورت ہے کہ اس کے اظہار کی کوشش کریں۔اور وہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ایسے معاملات جو دوسروں سے سے تعلق رکھتے ہیں اور جن میں عقائد کا کوئی سوال نہیں ہوتا ان کے متعلق ایسا رویہ اختیار کریں کہ لوگوں کو محسوس ہو ہم ان کے ہمدرد اور خیر خواہ ہیں۔پس ہمارے بچے سکول میں یا باہر یا جہاں کام کریں یہ مقصد ان کے مد نظر رہے۔وہ دوسری اقوام اور دیگر مذاہب کے لوگوں سے ایسا اچھا سلوک کریں کہ وہ یہ ماننے کے لئے مجبور ہو جائیں کہ یہ بنی نوع انسان کے بچے خادم اور حقیقی وفادار ہیں۔اس کے ساتھ ہی ان کا جو اصل مقصد ہے اور جو ہر اس شخص کا ہونا چاہئے جو اپنے مذہب کو سچا سمجھتا ہے اسے نہ بھولیں۔یعنی جسے سچائی اور صداقت سمجھتے ہیں اسے پیش کرتے رہیں۔جو شخص کسی مذہب کو مانتا ہے لیکن دوسروں کے سامنے اسے پیش نہیں کرتا وہ یا تو خود دھو کا خوردہ