زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 332
زریں ہدایات (برائے طلباء) 332 جلد سوم مذہبی بزرگوں اور پیشواؤں کے متعلق کس طرح سن سکتا ہے جو ماں باپ اور دوسرے تمام رشتہ داروں سے زیادہ عزیز اور محبوب ہوتے ہیں۔پس ہمارے نوجوان کو اپنے عمل سے ثابت کرنا چاہئے کہ دوسروں کے بزرگوں کا ہر طرح اعزاز اور اکرام کیا جائے۔ایڈریس میں پرافٹ ڈے (Prophet Day) کی تحریک کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔میرا ارادہ پرافٹس ڈے (Prophets Day) مقرر کرنے کا بھی ہے۔یعنی نہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لیکچر دلائے جائیں بلکہ دیگر مذاہب کے بانیوں کے متعلق بھی لیکچر دیئے جائیں۔چودھری ابوالہاشم صاحب ایم اے انسپکٹر آف سکولز بنگال جو انفاق سے اس وقت یہاں بیٹھے ہیں انہوں نے مجھے یہ لکھا تھا جس کے جواب میں میں نے انہیں لکھا کہ میرا یہ ارادہ ہے اور میں اسے عمل میں لانے کی کوشش کروں گا۔جب پرافٹ ڈے مستحکم ہو جائے تو میرا منشاء ہے کہ ایک ایسا دن مقرر کیا جائے جس میں ہر مذہب کے بزرگوں کی خوبیاں بیان کی جائیں خواہ وہ ہندوؤں کے بزرگ ہوں یا سکھوں کے یا عیسائیوں کے۔تجویز یہ ہوگی کہ ہر مذہب کے بزرگ کی خوبیاں دوسرے مذاہب کے لوگ بیان کریں۔مثلاً مسلمانوں کے بزرگوں کی ہندو، ہندوؤں کے بزرگوں کی عیسائی، عیسائیوں کے بزرگوں کی مسلمان۔اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کے لئے تو اپنے مذہب کے بانی کی خوبیاں خود بیان کرنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن پرافٹس ڈے کے لئے ضروری ہے کہ ایک دوسرے کے بزرگوں کی خوبیاں بیان کی جائیں۔یہ کوئی بناوٹ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔جھوٹ نہیں سچ ہے کہ ہر مذہب کے بانی میں ایسی خوبیاں پائی جاتی ہیں جن کا ہر انسان کو اعتراف کرنا چاہئے۔میں مہاتما بدھ کے حالات جب بھی پڑھتا ہوں میرے آنسو نکل آتے ہیں اور مجھ پر رقت طاری ہو جاتی ہے اور ہر وہ شخص جس کا دل مر نہیں گیا اگر پڑھے گا تو اس پر یہی اثر ہوگا۔اسی طرح اگر کوئی ہندو یا سکھ یا عیسائی تعصب سے علیحدہ ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان قربانیوں کا ذکر پڑھے گا جو آپ نے دنیا کوفسق و فجور سے چھڑانے ، ظلمت و تاریکی سے نکالنے اور انسانیت قائم کرنے کے متعلق کیں، انسانوں میں مساوات قائم کرنے کے متعلق کیں تو وہ ضرور متاثر ہوگا اور آپ کی