زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 329

زریں ہدایات (برائے طلباء) 329 جلد سوم ایڈریس میں ایسا کہا ہے جو مجھے پسند نہیں آیا۔اور وہ یہ ہے May be they might have experienced certain inconveniences due to some drawbacks in our arrangements۔اس فقرہ سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ مہمان نوازی کے متعلق انہوں نے جو کام کیا ہے اس پر وہ مطمئن ہیں اور اسے کافی سمجھتے ہیں۔یہ روح غلط ہے۔ہمیں ہر نیکی کرتے وقت یہ احساس ہونا چاہئے کہ وہ نیکی ہمیں اتنی مقبول اور اتنی پسندیدہ ہے کہ جو کچھ اس کے متعلق کیا اسے ہم بہت تھوڑا سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسے اور زیادہ عمدگی سے کریں۔میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے بچوں کو آئندہ جب کبھی موقع ملے چاہے اپنے گھر میں کسی کی مہمان نوازی کریں، چاہے کسی مسافر سے سفر میں معاملہ کریں، چاہے اس قسم کے عام میل ملاپ کا موقع ملے جیسا کہ اس دفعہ امتحان کے موقع پر انہیں ملا ہے تو ان میں یہ احساس نہ ہو کہ ہم نے جو کرنا تھا کر لیا اور یہ نہ سمجھیں کہ ممکن ہے اس میں کوئی کوتاہی ہوگئی ہو۔بلکہ یہ سمجھیں کہ یقینا اس معیار کے مطابق ہم نہیں کر سکے جس کے مطابق ہمیں کرنا چاہئے تھا۔ہمارے بچوں کو ہمیشہ اپنے ذہن اور ارادہ کو بلند رکھنا چاہئے۔میں اس وقت کسی ایسے شخص کا قول جو مجھ سے مشابہت رکھتا ہے یعنی رسول کریم کا خلیفہ ثانی ہے ہدایت کے لئے پیش کرتا ہوں۔وہ حضرت عمرؓ کا قول ہے۔فرماتے ہیں نِيَّةٌ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ عَمَلِهِ 1 مؤمن جو کام کرتا ہے اس کی نیت اس سے بہت بڑھ کر ہوتی جو کی ہے۔جو کچھ وہ کرتا ہے اس کے متعلق یہی کہتا ہے کہ کچھ نہیں کیا۔اس سے بڑھ کر کرنا چاہئے تھا۔پس تم ہمیشہ جب اپنے دوستوں یا دوسروں سے مل کر ان کی خدمت کرو، ان کے آرام و آسائش کے لئے کوشش کرو، اپنے بزرگوں کا ادب و احترام کرو تو وہ اس قدر ہو جس قدر تم کر سکتے ہو۔اور جتنا زیادہ کر سکو کرو۔لیکن اس کے ساتھ یہ احساس ہو کہ ہم نے کچھ نہیں کیا اور جو کچھ کیا اس سے بہت زیادہ ہمیں کرنا چاہئے تھا۔بچوں نے اپنے ایڈریس میں ایک نہایت مناسب موقع بات پیش کی ہے جسے میں اس وقت نظر انداز نہیں کر سکتا۔ایڈریس میں ان تعلقات کا ذکر کیا گیا ہے جو مختلف اقوام اور مختلف صلى الله