زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 299

زریں ہدایات (برائے طلباء) 299 جلد سوم آتیں۔تمہارے ارادے بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔اس جاہ طلبی کے خیال اور اس آگے ترقی کرنے کی خواہش نے تمہیں ایسا خراب کر رکھا ہے کہ تم کسی کام کے نہیں رہے۔تمام اندرونہ تمہارا بگڑ چکا ہے۔حتی کہ موت تک تمہارے اندر کسی اصلاح کی صورت پیدا نہیں ہوسکتی۔یعنی امیدوں، امنگوں، ارادوں اور زیادت طلبی کو ایسے بھیا نک رنگ میں پیش کیا ہے کہ انسان خیال | کرتا ہے ان سب باتوں کو چھوڑ چھاڑ کر الگ ہو جائے۔کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ ایسے خیالات رکھنے والوں کو موت تک ہدایت نصیب نہیں ہو سکتی۔ایسی حالت کو دیکھ کر انسان خیال کر سکتا ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ ہو جانا چاہئے یعنی یاد نیا کو چھوڑ دیا جائے یا دین کو۔لیکن اس کے بعد ایک اور آیت ہے جو اُ سے ایک نئی جنگ میں مبتلا کر دیتی ہے۔ان امنگوں اور خواہشات کے متعلق یہاں تو فرمایا تھا کہ تکاثر کی وجہ سے تم غافل ہو گئے ہو اور زیادت طلبی نے تمہیں دین سے محروم کر دیا ہے لیکن دوسری جگہ فرمایا اِنَّا اَعْطَيْنكَ الْكَوْثَرَ 3 یعنی ہم نے تمہیں اتنی زیادتی بخشی ہے کہ جس کے مقابلہ میں دنیا کی اور کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔کوثر عربی زبان میں ایسی وسیع زیادتی کے لئے بولا جاتا ہے جو انتہاء سے بھی آگے ہو۔مگر یہ کوثر بطور سز کوثر بطور سزا نہیں بلکہ فرمایا فَصَلِّ لِرَيْك وَانْحَر به تو خوش ہو کہ خدا نے تجھے اس قدر زیادتی عطا کی۔پس کثرت اگر ایسی ہی بری چیز تھی تو چاہئے تھا کہ حکم ہوتا اس کے لئے استغفار کرو۔مگر فرمایا یہ سز انہیں بلکہ انعام ہے۔پس تو خوش ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ خدا تعالیٰ کے انعامات میں سے ایک انعام ہے۔پھر دوسری جگہ فرمایا اِهْدِنَا القِرَاحَ الْمُسْتَقِيمَ 5 یعنی دعا سکھائی گئی ہے کہ اے خدا! تو نے جو جو کچھ کسی کو دیاوہ مجھے بھی دے۔اب غور کا مقام ہے کہ یہاں تو خدا تعالیٰ نے خود سکھایا ہے کہ تم تکاثر طلب کرو۔اور پھر یہ دعا بھی سکھائی کہ جو جو انعام دنیا میں کسی کو ملا ہے وہ سب ہمیں دے۔پھر یہ کیا معمہ ہے کہ ایک آیت میں تو تکاثر کو موجب تباہی بتایا اور دوسری میں سکھایا ہے کہ کسی چیز پر بس ہی نہ کرو بلکہ کہو جو جو کچھ دنیا میں کسی کو ملا وہ سب ہمیں مل جائے۔گویا جب روکا تو بالکل ہی روک دیا اور جب منگوایا تو اتنا کہ حساب ہی نہیں۔لیکن یہ دونوں چیزیں اضداد نہیں۔اور ترقی میں روک ہمیشہ وہی چیزیں