زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 298

زریں ہدایات (برائے طلباء) 298 جلد سوم نہیں ہوتا۔بعض دفعہ وہ خیال کرتا ہے کہ میں بیمار ہوں اور ایسا ہوتا بھی ہے کہ بعض دفعہ طبیعت میں بیماری کے اسباب جمع ہو جانے کی وجہ سے ہی افسردگی پیدا ہو جاتی ہے۔مگر بعض اوقات اس کا سبب جذبات کی جنگ اور Conflicting views ہوتے ہیں۔اور اب تحقیق ہوئی ہے کہ بعض بیماریوں کا سبب جذبات کی جنگ ہوتی ہے جن کا علاج اس جنگ کو دور کرنے سے خود بخود ہو جاتا ہے۔اسے انگریزی میں سائی کو انپیلے سنز (PSYCHOANALYSIS) کہتے ہیں۔چونکہ موجبات جنگ نظر سے پوشیدہ ہوتے ہیں اس لئے جب ڈاکٹر پوچھتا ہے تمہیں کوئی تکلیف | ہے؟ تو اسے نفی میں جواب دے دیا جاتا ہے۔وہ پوچھتا ہے کہیں درد ہے؟ تو کہہ دیا جاتا ہے کہ نہیں۔لیکن پھر بھی طبیعت افسردہ ہی رہتی ہے۔کیونکہ اس کی وجہ دماغی تاثرات ہوتے ہیں۔اب تو یہاں تک معلوم ہوا ہے کہ بعض دفعہ دو سال کی عمر میں جذبات کو کوئی بار یک ساصدمہ پہنچا مگر اس کا اثر پچاس سال کی عمر تک رہا۔بہت سے جسمانی علاج کئے گئے لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا۔لیکن جب ڈاکٹر نے اس طریق کو مد نظر رکھتے ہوئے جو میں نے اوپر بیان کیا ہے علاج کیا تو وہ کیفیت دور ہو گئی اور مریض صحت یاب ہو گیا۔تو انسان کی زندگی میں یہ جنگ ہوتی ہے۔اور میں نے محسوس کیا ہے کہ مسلمان اور خصوصاً احمدی طلباء میں یہ زیادہ ہے۔ایک طرف تو ان کے سامنے وسیع ارادے اور پر جوش امنگیں ہوتی ہیں اور دوسری طرف مذہبی امور جن کے متعلق انہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی امیدوں کو محو کر رہے ہیں۔ان کے دل مذہب کے مصدق ہوتے ہیں۔وہ اس کی سچائی دیکھ چکے ہوتے ہیں اس لئے اُسے بھی نہیں چھوڑ سکتے۔لیکن دوسری طرف دنیاوی باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے متعلق عقل کہتی ہے کہ یہ بھی صحیح ہیں اس لئے انہیں بھی ترک نہیں کر سکتے۔ایسی حالت میں ان میں سے بعض کے اندر ایسی جنگ شروع ہو جاتی ہے جس کا اثر ان کے ارادوں ، ان کی امنگوں، ان کی صحت بلکہ ان کے دین پر بھی پڑتا ہے۔قرآن کریم میں ان کیفیات کا ذکر دو جگہ ہے۔ایک جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَلْهُكُمُ الشَّكَاثُرُ حَتَّى زُرتُمُ الْمَقَابِرَ 2 یعنی تم بھی عجیب - انسان ہو کہ تکاثر نے تمہیں تکلیف میں ڈال رکھا ہے۔تمہاری امنگیں ختم ہونے میں ہی نہیں