زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 289
زریں ہدایات (برائے طلباء) 289 جلد سوم انعام کی حیثیت نہیں دیکھی جایا کرتی۔انسانی فطرت میں مقابلہ اور آگے بڑھنے کی خواہش رکھی گئی ہے۔اگر ہم کوئی معمولی خوبصورت سا پتھر یا شیشے کی گولی ہی رکھ دیں اور چند بچوں سے کہیں کہ دوڑو ! جو اول رہے گا اسے یہ انعام دیا جائے گا تو اول رہنے والے کے سوا کوئی کہے گا مجھے فلاں نے کہنی مار دی تھی اس لئے میں اچھی طرح دوڑ نہیں سکا۔کوئی کہے گا فلاں نے مجھے لات مار دی تھی اس لئے میں پیچھے رہ گیا۔کوئی کہے گا آج میری ٹانگ میں درد تھا اس لئے فلاں مجھ سے آگے بڑھ گیا۔غرض کہ ہر ایک کوئی نہ کوئی وجہ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ اصل میں یہ حق میرا ہی تھا ضرور پیش کرے گا حالانکہ وہ پتھر یا شیشے کی گولی ایک بے حقیقت چیز ہے۔تو انعامات طالب علم کی زندگی کو دلچسپ بنانے اور اس میں تعلیم کے لئے حقیقی شوق پیدا کرنے کے لئے ایک ضروری چیز ہیں لیکن میرے خیال میں یہ ضروری ہے کہ انعاموں کو ہمیشہ طالب علم کے سامنے رکھنے کا انتظام ہونا چاہئے۔جب تک انعامات ایک لمبے سلسلہ کے ساتھ وابستہ نہ کر دیئے جائیں وہ ایسے دلچسپ اور مفید نہیں ہو سکتے۔یہ ایک ضروری بات ہے جسے پورا کرنا ہمارے منتظمین کا فرض ہونا چاہئے۔ٹورنامنٹ کے انعاموں کے متعلق بھی ایسا انتظام ہونا چاہئے کہ وہ سارا سال ورزش کا شوق دلانے میں مد ثابت ہوسکیں۔اور علوم کے انعامات کے متعلق بھی ایسا ہی ہونا چاہئے۔اگر زمانہ امتحان میں پڑھائی کا شوق پیدا کیا جائے تو یہ اتنا مفید نہیں ہو سکتا جتنا سارا سال محنت کرنے کا ہوگا۔اس لئے اگر کوئی ایسی تجویز ہو سکے جس سے ایسے انعامات کو سارے سال میں پھیلایا جا سکے تو یہ بہت مفید ہو گا۔مثلاً سالانہ امتحان میں اول رہنے والوں کو ہی انعام نہ دیئے جائیں بلکہ سہ ماہی امتحانات کے نتائج پر دیئے جائیں اور تمام نتائج ملا کر کسی طالب علم کو انعام کا مستحق قرار دیا جائے۔میں یہ تجویز ابتدائی صورت میں پیش کر رہا منتظمین کو چاہئے اس پر غور کر کے کوئی راہ نکال لیں۔کیونکہ ایک نتیجہ تو بہت سے اثرات سے متاثر ہو سکتا ہے۔فرض کرو ایک طالب علم تمام سہ ماہی امتحانات میں اچھے نمبر حاصل کرتا آرہا ہے لیکن سالانہ امتحان کے روز اسے گھر سے حسب منشاء کھانا نہیں ملا جس سے اس کی طبیعت بدمزہ ہوگئی اور اس کا دماغ اچھی طرح کام کرنے کے قابل نہ رہا۔یا اگر وہ امتحان کے ہوں۔