زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 288
زریں ہدایات (برائے طلباء) 288 جلد سوم ضائع ہی ہو جائے تو پھر اور بھی زیادہ قدر معلوم ہوتی ہے۔یہی حال علم کا ہے۔جس وقت طالب علم اسے حاصل کر رہا ہوتا ہے یا حاصل کر چکتا ہے اُس وقت عام طور پر اس کی قدر نہیں کی جاتی۔لیکن اگر یہ سوال ہو کہ علم کو مٹا دیا جائے تو کوئی عالم اپنے علم کو جہالت سے تبدیل کرنا پسند نہیں کرے گا۔خواہ اس کے مقابلہ میں اسے فقروفاقہ اور غربت و افلاس کی زندگی ہی بسر کرنی پڑے۔یہ تو دنیاوی یا روحانی ظاہری علوم کا حال ہے۔لیکن وہ روحانی علوم جو خدا تعالیٰ کے قرب کے نتیجہ میں ملتے ہیں ان کا عالم تو اس سوال کو اپنی ہتک اور ذلت سمجھے گا۔لیکن باوجود اس کے یہ بھی صحیح ہے کہ بعض چیزیں اپنے اظلال سے پہچانی جاتی ہیں۔اور جب انسان دور سے انہیں دیکھے تو نہیں پہچان سکتا۔ان ہی چیزوں میں سے علم بھی ہے۔علم کی ذاتی خوبیاں پہچانت طالب علم کے لئے ناممکن ہے۔وہ یہ سمجھ ہی نہیں سکتا کہ علم کا کیا فائدہ ہے۔پہلے پہل تو ماں باپ اسے یہ کہہ کر مدر سے بھیجتے ہیں کہ تمہیں مٹھائی ملے گی۔اُس وقت مدرسہ جانے سے اس کی ایک ہی غرض ہوتی ہے کہ شام کو آنے پر مٹھائی ملے گی۔اگر اُس وقت ماں باپ اس کے سامنے یہ باتیں کر رہے ہوں کہ یہ تعلیم حاصل کر کے بڑا قانون دان یا انجینئر یا کوئی اور بڑا رتبہ حاصل کرے گا اور وہ سوال کرے کہ یہ کیا بات ہے اور ایسا بننے سے کیا ہوگا تو وہ سوائے اس کے اسے کچھ نہیں بتا سکتے کہ ایسا بننے سے تمہیں بہت سی مٹھائیاں کھانے کو ملیں گی کیونکہ وہ اس سے زیادہ کچھ سمجھنے کی قابلیت نہیں رکھتا۔یا اگر ذرا اور بڑا ہوگا تو یہ کہیں گے کہ تمہیں گھوڑا ، گاڑی اور اچھے اچھے کپڑے سہنے کوملیں گے۔لیکن جب وہ ایم اے پاس کر لے تو اس کے سامنے اگر لڈوؤں کا تھال بھر کر رکھ دیا جائے اور اسے کہا جائے لو یہی وہ چیز ہے جس کے لئے تم نے تعلیم حاصل کرنا شروع کی تھی تو اُس وقت وہ اس بات کو سمجھنے کے قطعا نا قابل ہوگا۔جس طرح وہ پہلے دن علم کے فوائد سمجھنے کے نا قابل تھا اسی طرح وہ علم حاصل کر لینے کے بعد اس بات کو بھی نہ سمجھ سکے گا کہ یہی وہ چیز ہے جس کے لئے وہ علم حاصل کر رہا تھا۔اور ممکن ہے بچپن میں تو وہ یہ سمجھتا ہو کہ یہ ایسی باتیں ہیں جو میں سمجھ نہیں سکتا لیکن ایم اے پاس کرنے کے بعد وہ اپنے سامنے مٹھائی کے تھال کو تعلیم کا مقصد قرار دے کر ر کھنے والے کے متعلق یہ ہی سمجھے گا کہ اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔