زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 290
زریں ہدایات (برائے طلباء) 290 جلد سوم دنوں میں بیمار ہو یا قریب کے زمانہ میں بیمار رہا ہو تو اچھی طرح تیاری نہ کر سکے گا۔ان باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ اس کے سہ ماہی نتائج کو بھی شامل کر لیا جائے تا حقدار کو اس کا حق مل سکے۔اس صورت میں بھی بعض طلباء محروم رہ سکتے ہیں۔مثلاً وہ جو بہت بیمار ہو اور امتحان دے ہی نہ سکے لیکن ایسی استثنائی صورتوں کا لحاظ نہیں رکھا جاسکتا۔تو میرا مطلب یہ ہے کہ انعامات پھیلا دینے چاہئیں۔اس کے علاوہ غور کیا جائے تو اور بھی صورتیں نکل سکتی ہیں۔مثلاً انعامات کے طور پر بعض حقوق طلباء کو دیئے جاسکتے ہیں۔میں نے انگلستان کے پبلک سکولوں کے متعلق کتابوں میں ایسی باتیں پڑھی ہیں۔مثلاً انہیں مانیٹر بنا دیا جائے اور کچھ اختیارات دے دیئے جائیں جو ہر وقت طالب علم کے سامنے آتے رہیں اور وہ انہیں روزانہ استعمال کرتار ہے تا آئندہ سال ان کو حاصل کرنے کی خواہش دوسروں میں بھی اور اس میں بھی پیدا ہو۔غرض کئی چیزیں ہیں جن سے انعام کی یاد کو تازہ رکھا جاسکتا ہے۔دوسرے میں سمجھتا ہوں ایک انعام اخلاقی یعنی Good Conduct کا بھی ہونا چاہئے۔جس طرح دینیات کی تعلیم لفظی ہے اسی طرح عملی تعلیم بھی ہے۔اس کے لئے یہ دیکھا جائے کس طالب علم نے اپنے عمل کو دوسروں کے لئے نمونہ بنایا۔فرض کرو ایک لڑکے کا دماغ اچھا نہیں اس لئے وہ کتابی محنت سے انعام حاصل نہیں کر سکتا۔جب ایسے انعام کا سوال ہوگا تو وہ سارا دن محنت کرنے کے باوجود بھی رہ جائے گا۔لیکن اگر یہ دیکھا جائے کہ کون طالب علم اپنے فرائض کی ادائیگی میں باقاعدہ رہا ہے ، باقاعدہ اٹھتا، باقاعدہ پڑھتا، باقاعدہ کھیلتا اور وقت پر نمازیں ادا کرتا رہا ہے۔دوسرے لڑکوں سے لڑائی جھگڑا نہیں کرتا رہا۔بلکہ اگر لڑکوں میں اختلاف ہوا تو ان میں اصلاح کرواتا رہا ہے تو وہ لڑکا بھی جو بوجہ پیدائشی نقص یعنی کمزوری دماغ کے انعام حاصل نہیں کر سکتا وہ بھی انعام کا مستحق ہو سکتا ہے۔اور اس طرح بھی انعام دینے کا انتظام ہونا چاہئے تا انعامات محض By Chance خوبی کا نتیجہ نہ ہوں بلکہ ان میں کوشش اور سعی کا بھی دخل ہو۔صلى الله رسول کریم میں یہ ایک دفعہ جہاد پر جارہے تھے۔آپ نے اپنے ساتھی مجاہدین سے فرمایا مدینہ