زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 22

زریں ہدایات (برائے طلباء) 22 جلد سوم دیکھو ایک چیز کا خیال دل میں آتا ہے اور اس خیال کے اظہار کے لئے زبان کو ہلایا جاتا ہے اور اس سے ایک آواز پیدا ہوتی ہے یا اس کے لئے کاغذ پر کچھ لکیریں کھینچی جاتی ہیں۔یہ آواز کا نکالنا یا کاغذ پر لکیریں کھینچنا بذات خود کچھ نہیں ہوتا ہاں اس خیال کا قائم مقام اور اس کے اظہار کا ذریعہ ہوتا ہے جو دل میں پیدا ہوتا ہے۔خدا نے انسان کے دل میں ہر ایک جذبہ جو پیدا ہوتا ہے اس کے اظہار کے لئے کچھ علامات رکھی ہیں ان کے ذریعے اس کا ظہور ہوتا ہے۔تو مفتی صاحب کو دعوت دینے سے اگر تمہاری یہ غرض ہے کہ اس محبت اور جوش کا اظہار کر و جوان کے تبلیغ کے لئے ولایت جانے پر تم میں پیدا ہوا ہے اور اس کا اظہار تم نے ایڈریس کے لفظوں میں اس طرح کیا ہے کہ ہمیں ان کے جانے سے بہت خوشی ہوئی ہے اور پھر عملی طور پر چونکہ اور زیادہ اظہار ہوتا ہے اس لئے الفاظ سے بڑھ کر تم نے اپنے مال کے ذریعہ سے اظہار کیا ہے اور بتایا ہے کہ جہاں تک ہم اپنی قلبی محبت اور خوشی کا اظہار کر سکتے تھے ہم نے کیا ہے تو بہت خوشی کا مقام ہے۔یہ دونوں طریق جو تم نے اختیار کئے ہیں یہ ایسے ہیں جو ناراضگی اور ناخوشی کے موقع پر اختیار نہیں کئے جاتے۔مثلاً یہ نہیں ہوگا کہ ایک شخص کسی کے عزیزوں اور رشتہ داروں کو مارنے کے لئے چلنے لگے تو اسے ایڈریس دیا جائے یا اس کی دعوت کی جائے بلکہ یہ دونوں باتیں ایسے ہی موقع پر کی جاتی ہیں جبکہ جانے والے کے ساتھ اپنی آرزوئیں اور تمنائیں وابستہ ہوں، اس کے کام اور ارادہ سے محبت اور الفت ہو، اس کی کوشش اور سعی سے خوشی اور راحت ہو۔لیکن اب سوال یہ ہے کہ جس بات کو دوسرے کے لئے پسند کیا جاتا ہے اور جس پر خوشی اور محبت کے اظہار کے طریق اختیار کئے جاتے ہیں کیا ایسا کرنے والے اسے اپنے لئے بھی پسند کرتے ہیں؟ اگر تو وہ اسے دوسرے کے لئے ہی پسند کرتے ہیں اور دوسرے کے متعلق ہی خوشی کا اظہار کرتے ہیں تو معلوم ہوا کہ انہیں اس سے حقیقی خوشی اور اصلی محبت نہیں ہے بلکہ وہ محض بناوٹ اور فریب کر رہے ہیں۔گو وہ خوشی کا اظہار کرتے ہیں مگر اس موقع کو خوشی کا موقع نہیں سمجھتے۔وہ محبت کا اظہار کرتے ہیں مگر دراصل کچھ نہیں کرتے۔اور وہ جو کچھ کرتے ہیں محض ریاء کے طور پر کرتے ہیں یا یہ کہ وہ اسے اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک وہ ایک بے ہودہ اور لغو کام کرنے کا ارادہ