زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 23
زریں ہدایات (برائے طلباء) 23 جلد سوم کرتا ہے اس لئے خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ایسی صورت میں بھی گو انہیں خوشی ہوتی ہے مگر اس لئے نہیں کہ وہ کوئی اچھا کام کرنے جاتا ہے بلکہ اس لئے خوشی ہوتی ہے کہ وہ ان کا دشمن ہے اور ایک برے کام میں اپنے آپ کو لگانے لگا ہے جس سے اسے نقصان اور تکلیف پہنچے گی۔اس لحاظ سے مفتی صاحب کا ولایت جانا دوصورتوں سے خالی نہیں۔اول تو یہ کہ جنہوں نے اس موقع پر ایڈریس پڑھا ہے وہ ان کے ساتھ حقیقی محبت اور دلی خوشی رکھتے ہیں۔دوم یہ کہ وہ انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور اس بات سے خوش ہورہے ہیں کہ اچھا ہوا کہ وہ جارہے ہیں۔جس طرح کوئی بڑا ظالم ہیڈ ماسٹر جب جانے لگتا ہے تو لڑکے اسے ایڈریس دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اچھا ہوا ہمارے سر سے بلاٹلی۔مگر مفتی صاحب کے متعلق ان دو صورتوں میں سے دوسری صورت کے ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔وہ کسی سکول کے ہیڈ ماسٹر نہیں ہیں اور نہ ہی طلباء سے ان کا اس قسم کا کوئی تعلق ہے کہ انہیں تکلیف پہنچائی ہو۔اس لئے پہلی ہی صورت ہو سکتی ہے کہ ان کے جانے پر اس لئے خوشی کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ ایک بہت عمدہ اور اچھے کام کے لئے جارہے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ جس چیز کو اچھا سمجھا جاتا ہے اس کے اچھا ہونے کے اظہار کی کیا علامت ہوتی ہے؟ یہی کہ اس کو خود بھی کیا جاتا ہے۔کبھی یہ نہیں ہوا کہ دو پیا سے ایک جگہ کھڑے ہوں اور ایک دوسرے کو کہے کہ تم فلاں جگہ جاؤ وہاں تمہیں پانی مل جائے گا۔کیا وہ اس کی بات مان لے گا اور وہاں چلا جائے گا ؟ ہر گز نہیں۔وہ تو اُسے کہے گا کہ اگر وہاں واقعہ میں پانی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ تو وہاں نہیں جاتا اور مجھے کہتا ہے کہ تو جا۔تو ہم اس ایڈریس اور دعوت سے ایک ہی نتیجہ نکال سکتے ہیں اور وہ یہ کہ اس طرح مفتی صاحب کے کام کے ساتھ خوشی اور محبت کا اظہار کیا گیا ہے۔لیکن میں ان سے جنہوں نے یہ ایڈریس دیا اور دعوت کی ہے سوال کرتا ہوں کہ اگر انہوں نے یہ ریاء کے لئے کیا ہے تو ان کے اس فعل کی کوئی قدر نہیں ہے لیکن اگر انہوں نے بچے دل اور قلبی محبت سے ایسا کیا ہے تو انہیں سوچنا چاہئے کہ جس طرح مفتی صاحب خدا کی راہ میں بیوی بچوں، گھر بار، دوست و آشناء آرام و آسائش کو قربان کرنے کو تیار ہو گئے ہیں اسی طرح کرنے کے لئے وہ کہاں تک تیار ہیں۔