زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 21
زریں ہدایات (برائے طلباء) 21 چار سوم اور عمدہ ہو اس کے کہنے سے ڈرنے اور خوف کھانے کے کیا معنی۔پس جب کبھی تمہیں کوئی ایسا موقع پیش آئے تو پورے اطمینان اور تسلی کے ساتھ بولو اور اپنے جذبات پر خوف اور گھبراہٹ کو غالب نہ آنے دو۔کیونکہ جن لوگوں کو یہ عادت پڑ جاتی ہے ان سے دور نہیں ہو سکتی اور وہ عمدگی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار نہیں کر سکتے۔اب میں اس تقریب کے متعلق کچھ بیان کرتا ہوں۔اور وہ یہ کہ مفتی صاحب کے ولایت جانے پر تمہارے ایڈریس پڑھنے ، چائے پلانے اور بسکٹ کھلانے کی کیا غرض ہے۔یہ تو صاف ظاہر ہے کہ اس ایڈریس سے ان کے علم میں کوئی زیادتی نہ ہوگی اور نہ ہی اس سے ان کے کام میں کچھ آسانی پیدا ہو جائے گی۔پھر یہ بسکٹ اور چائے بھی ولایت میں ان کے کام نہ آئیں گے اور نہ وہاں کی سردی میں یہ چائے ان کے جسم کو گرم رکھے گی بلکہ یہیں فصلہ ہو کر خارج ہو جائے گی۔لیکن اگر تم نے اسی غرض کے لئے ان کو ایڈریس دیا، بسکٹ کھلائے اور چائے پلائی ہے تو یہ کسی صورت میں بھی قابل ستائش فعل نہیں ہے۔ہاں ان الفاظ اور چائے وبسکٹ کی ایک غرض بھی ہے اور اگر وہ تمہارے مدنظر نہیں ہے تو اس دعوت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔وہ کیا ؟ وہ ان احساسات اور جذبات کا اظہار، ان امیدوں اور آرزوؤں کا اظہار، اس محبت اور الفت کا اظہار ہے جو مفتی صاحب کے اس کام کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان کو وقف کرنے پر تمہیں ان سے پیدا ہوئی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ جب انسان کے دل میں کسی چیز سے محبت اور الفت پیدا ہوتی ہے اور اس کے متعلق دل میں جوشِ الفت پیدا ہوتا ہے تو اسے کسی نہ کسی حرکت سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ایک دوست جب دوسرے دوست سے ملتا ہے تو ایک دوسرے کے ساتھ مصافحہ کرتے ہیں، گلے ملتے ہیں اسی طرح ماں باپ جب بچے کو دیکھتے ہیں تو اسے بوسہ دیتے ہیں۔کیا اس طرح کرنے سے بچہ کی عقل بڑھ جاتی ہے یا اسے کوئی اور ایسا فائدہ پہنچتا ہے جو اس جذبہ سے تعلق رکھتا ہے جس کی وجہ سے اسے بوسہ دیا گیا؟ کچھ نہیں۔پھر وہ کیا بات ہے جو ماں باپ کو مجبور کرتی ہے کہ اپنے بچہ کو بوسہ دیں ؟ وہ اس کے ساتھ قلبی محبت ہے جس کا اس طرح اظہار کیا جاتا ہے۔پھر