زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 254
زریں ہدایات (برائے طلباء) 254 جلد سوم تعاون سے ہوتی ہے۔دیکھو آجکل انگلستان میں مزدوروں نے سٹرائک کی ہوئی ہے چونکہ انہوں نے ایک انتظام کے ساتھ سٹرائک کی ہے اس لئے سارا ملک خطرہ میں پڑ گیا ہے اور بادشاہ سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے حاکم تک گھبرا رہے ہیں کہ ملک میں فساد اور خونریزی نہ پھیل جائے۔اب اگر مزدور آپس میں تعاون نہ کرتے تو کبھی اس طرح سارے ملک کو نہ ہلا سکتے اور ساری دنیا میں تہلکہ نہ مچاسکتے۔اسی طرح اگر ان کے مقابلہ میں گورنمنٹ تعاون سے کام نہ لیتی ، ملک کے لوگ گورنمنٹ کے ساتھ نہ مل جاتے تو وہ انگلستان دو تین دن کے اندر اندر پراگندہ حال ہو جاتا جس کو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت تباہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔مزدوروں نے تو آپس میں اس طرح تعاون کیا کہ ریل چلانے والوں نے ریل چلانی چھوڑ دی، کوئلہ نکالنے والوں نے کوئلہ نکالنا بند کر دیا۔یہاں کوئلہ کی اتنی قدر نہیں سمجھی جاسکتی جتنی انگلستان میں ہے کیونکہ ہمارا ملک گرم ہے مگر وہاں سردی ہوتی ہے۔اس لئے کوئلہ ضروریات زندگی میں سے ایک بہت ضروری چیز ہے۔پھر کارخانے کوئلہ کے ذریعہ چلتے ہیں۔غرض کوئلہ نکالنے والوں نے کوئلہ نکالنا چھوڑ دیا۔ریل چلانے والوں نے ریل چلانے سے انکار کر دیا۔ٹریم (Tram) بند ہوگئی۔پریس والوں نے اخبار چھاپنے بند کر دیئے۔ہوٹلوں کے ملازموں نے ہوٹلوں میں کام کرنے سے انکار کر دیا۔اور ایسی حالت ہو گئی کہ وہ یورپ جو اس بات کا عادی ہو گیا ہے کہ تمام کام ایک انتظام کے ماتحت آپ ہی آپ ہوں اُس پر آج یکدم وہ زمانہ آ گیا جبکہ انگلستان کے لوگ جنگلوں میں وحشیانہ زندگی بسر کرتے تھے اور ہر شخص اپنی ضرورت آپ پوری کرتا تھا۔اگر عام لوگ گورنمنٹ کے ساتھ تعاون نہ کرتے تو انگلستان تین دن کے اندر اندر تباہ و برباد ہو جاتا۔نہ کوئی کہیں جاسکتا نہ آ سکتا۔نہ روشنی ہوتی نہ کھانے پینے کا کوئی سامان ہوتا۔لوگ بھوکوں مرجاتے۔مگر یہ تعاون کا ہی نتیجہ ہے کہ 25 لاکھ مزدوروں کے کام چھوڑ دینے پر بھی گورنمنٹ نے ملک کی حفاظت کرلی ہے۔پس دنیا میں ہر قوم کی ترقی کیلئے صحیح مقابلہ اور صحیح تعاون کی ضرورت ہے۔اور یہ دونوں باتیں ٹورنامنٹ کے ذریعہ بچوں میں پیدا کی جاسکتی ہیں۔جو اگر چہ آج کے بچے ہیں لیکن کل کے باپ ہوں گے۔آج ہم جو سبق ان بچوں کو دیں گے کل وہ قومی