زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 255

زریں ہدایات (برائے طلباء) 255 جلد سوم طور پر مفید ثابت ہوگا۔اسی لئے میں نے ٹورنامنٹ جاری کیا ہے۔لیکن اگر اس سے صحیح طور پر کام نہ لیا گیا تو یہی مقابلہ شقاق پیدا کر کے جماعت کو تباہ کر سکتا ہے۔اس لئے میں اس موقع پر جہاں اس بات پر خوشی کا اظہار کرتا ہوں کہ جماعت کے چھوٹے بڑوں نے اس نتیجہ کو پیدا کرنے کی کوشش کی جو ٹورنامنٹ کے ذریعہ پیدا کرنا میرے مد نظر ہے وہاں ٹورنامنٹ کی منتظم کمیٹی کو ہوشیار بھی کرتا ہوں کہ وہ بہت احتیاط اور ہوشیاری کے ساتھ اس بات کی نگرانی کرے کہ ناجائز مقابلہ اور غلط تعاون کی روح نہ پیدا ہو۔ورنہ سخت نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔مجھے اس دفعہ ٹورنامنٹ کی کھیلیں دیکھنے کے لئے آنے کا موقع نہیں ملا۔مگر ایک بات مجھے ایسی معلوم ہوئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض ناقص پہلو بھی پیدا ہورہے ہیں اور ضد اور تعصب کی طرف طبائع کا رجحان ہو رہا ہے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ ایسا معاملہ نہیں جس سے معلمین کے کان آشنا نہ ہوئے ہوں۔مگر انہوں نے اسے روکا نہیں۔اور وہ یہ کہ مدرسہ احمدیہ کے لڑکے کوئی کھیل جیت کر ایسے طور پر نعرے لگاتے ہوئے گئے کہ گو یا کسی اشد ترین دشمن پر فتح پا کر آئے ہیں۔ان کے شور سے تمام قادیان کی دیوار میں گونج رہی تھیں اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا دجال کا سر کچل کر آئے ہیں۔دیکھو یورپ کے لوگ جو مذہب کے سکھائے ہوئے اخلاق | نہیں رکھتے ان میں بھی یہ قاعدہ ہے کہ کسی مقابلہ میں جو پارٹی ہارتی ہے اس کی طرف جیتنے والے بڑھتے اور ان سے مصافحہ کرتے ہیں۔ہارنے والے ان کو کامیابی پر مبارکباد کہتے ہیں اور جیتنے والے بھی انہیں مبارکباد کہتے ہیں کہ تم بھی تو اس مقابلہ میں شامل تھے۔اس طرح کھیل کی روح قائم رہتی ہے اور ضد ، عداوت اور دشمنی تک نوبت نہیں پہنچتی۔مگر یہاں بالکل الٹ کیا گیا۔یہی وجہ تھی کہ جب ان لڑکوں نے کہا کہ مصافحہ کرنا چاہتے ہیں تو میں نے کہلا بھیجا کہ یوں تو جو چاہے مسجد میں مصافحہ کر سکتا ہے مگر وہ کونسی دینی فتح کر کے آئے ہیں کہ خاص مصافحہ کے متمنی ہیں۔دیکھو مدرسہ احمد یہ ہم نے اس لئے بنایا ہے اور اس لئے اس کے اخراجات برداشت کر رہے ہیں کہ اس میں پڑھنے والے دنیا کی اصلاح کرسکیں۔مگر جو اپنوں میں ہی شقاق کا باعث ہوتے ہیں ان سے کیا امید ہوسکتی ہے کہ دنیا کا شقاق دور کر سکیں گے۔اسی طرح وہ