زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 253
زریں ہدایات (برائے طلباء) 253 جلد سوم ہیں وہ انہیں معلوم نہیں ہوتے اور وہ الفاظ نہیں جانتے بلکہ اس لئے پڑھتے ہیں کہ ان ماہرین نے الفاظ کو جس ترتیب، جس انداز اور جس طریق سے استعمال کر کے جذبات میں جوش اور ہیجان پیدا کیا ہوتا ہے وہ نہیں جانتے۔اور جب وہ ان کی کتابیں پڑھتے ہیں تو انہیں اپنی زبان سے مقابلہ کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں زبان کے متعلق ابھی کیا کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔پس مقابلہ سے ہی انسان کو معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی قوتوں کو صحیح طور پر استعمال کر کے کہاں تک ترقی کر سکتا ہے۔جب وہ دیکھتا ہے کہ میرے جیسی طاقت اور قوت والا انسان بہت سے فنون سیکھ سکتا ہے تو وہ بھی سمجھتا ہے کہ میں بھی ترقی کر سکتا ہوں۔پس مقابلہ انسانی ترقی کے لئے نہایت ضروری ہے۔دوسری چیز انسانی ترقی کے لئے ضروری تعاون ہے۔یہ بالکل علیحدہ بات ہے کہ انسان دوسروں کو گرا کر خود کسی مقام پر پہنچ جائے اور یہ بالکل علیحدہ ہے کہ دوسروں سے تعاون کرتے ہوئے اپنے آپ کو آگے بڑھا کر لے جائے۔دو آدمی جن میں کام کرنے کی اعلیٰ طاقت ہوا گر علیحدہ علیحدہ کام کریں تو کبھی اس مقام پر نہیں پہنچ سکیں گے جہاں دونوں مل کر کام کرنے سے پہنچ سکتے ہیں۔کیونکہ جس طرح افتراق اور انشقاق سے کام کرنے والے کمزور اور بے طاقت ہو جاتے ہیں اسی طرح تعاون سے مضبوط اور طاقتور ہو جاتے ہیں۔ایک بادشاہ کی موٹی مثال سکول کے کورس میں پڑھائی جاتی تھی جس نے اپنے بیٹوں کو جمع کر کے ایک جھاڑو ان کے سامنے رکھا اور ہر ایک سے کہا کہ اس کو توڑو۔انہوں نے باری باری توڑنے کی کوشش کی مگر توڑ نہ سکے۔پھر اس نے جھاڑو کے تنکے تنکے کر کے کہا اب تو ڑو انہیں۔انہوں نے آسانی سے تو ڑلیا۔اس پر اس نے کہا دیکھو! جب تک یہ تنکے ایک دوسرے کی مدد کرتے رہے تم انہیں نہ توڑ سکے۔لیکن جب یہ پراگندہ ہو گئے تو تم نے فورا تو ڑ لیا۔اسی طرح اگر تم مل کر رہو گے تو کوئی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔لیکن اگر علیحدہ علیحدہ ہو جاؤ گے تو دشمن تمہیں تباہ کر دیں گے۔بات یہ ہے کہ علیحدہ علیحدہ قوت جب مل جاتی ہے تو ایک نئی طاقت پیدا ہو جاتی ہے اور اس سے جتنی ترقی ہو سکتی ہے اتنی علیحدہ علیحدہ طاقت صرف کرنے سے نہیں ہوسکتی۔تمام تمدنی ترقی