زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 243

زریں ہدایات (برائے طلباء) 243 جلد سوم ہوتے ہیں مگر وہ قابل قدر نہیں ہوتے۔کیونکہ وہ محض وقتی جوش کے ماتحت ایسا کر رہے ہوتے ہیں۔اور وقتی طور پر تو منافق بھی متاثر ہو جاتے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے ایک لڑائی میں ایک شخص کو ایسے جوش سے لڑتے دیکھا کہ بعض صحابہ کہنے لگے اگر کسی نے دنیا میں جنتی دیکھنا ہو تو اسے دیکھ لے۔جہاں لڑائی کا زیادہ زور ہوتا وہیں حملہ کرتا اور جہاں خطرہ زیادہ ہوتا وہیں پہنچتا۔جب رسول کریم ﷺ نے یہ بات سنی تو آپ نے فرمایا اگر کسی نے دنیا میں دوزخی دیکھنا ہو تو اسے دیکھ لے۔اس پر بعض صحابہ حیران ہوئے کہ یہ کیا ؟ جو اپنے آپ کو اس قدر خطرہ میں ڈال کر لڑ رہا ہے وہ دوزخی ہو گیا !! ایک صحابی کہتے ہیں بعض کے دل میں یہ خیال پیدا ہونے پر میں نے قسم کھائی کہ جب تک میں اس شخص کا انجام نہ دیکھ لوں اس کا پیچھا نہ چھوڑوں گا۔آخر وہ لڑتے لڑتے زخمی ہوا۔اور جب اسے زخموں کی تکلیف زیادہ ہوئی تو زمین پر نیزہ گاڑ کر اس پر اپنے آپ کو گرا کر خود کشی کر لی۔اور خودکشی ایسا گناہ ہے جو بخشا نہیں جاتا۔کیونکہ یہ آخری گناہ ہوتا ہے جس کے بعد انسان کو تو بہ کا موقع نہیں ملتا۔اس کے بعد وہ صحابی اس مجلس میں آیا جہاں رسول کریم لیے بیٹھے ہوئے تھے۔اور کہنے لگا میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ اور اللہ کا رسول سچا ہے۔آپ نے دریافت فرمایا کیا بات ہے؟ اس پر اس نے سارا واقعہ عرض کیا۔جسے سن کر رسول کریم ﷺ نے بھی فرمایا اللہ تعالیٰ سچا ہے اور میں اس کا سچا رسول ہوں 1 تو وقتی طور پر جوش ایک منافق میں بھی پیدا ہو جاتا ہے۔جب وہ شخص درد سے کراہ رہا تھا تو صحابہ نے اسے کہا تمہارے لئے جنت کی بشارت ہے کیوں گھبراتے ہو؟ وہ کہنے لگا میرے لئے جنت نہیں بلکہ دوزخ ہے کیونکہ میں قومی انتقام کے جوش سے لڑا ہوں نہ کہ دین کی خاطر۔پس وقتی جوش قابل قدر نہیں ہوتا خواہ وہ سچائی کے ساتھ ہی ظاہر کیا جائے۔اس شخص کے دل میں اس جوش کے متعلق نفاق نہ تھا بلکہ اخلاص تھا لیکن وہ اخلاص قوم کے لئے تھا۔عام حالت اس کی نفاق ہی کی تھی۔اُس وقت وقتی اخلاص کی حالت پیدا ہوئی تھی مگر اُس وقت کا اخلاص بھی کام نہ آیا کیونکہ وہ خدا کے لئے نہ لڑا بلکہ اپنی قوم کے لئے لڑا تھا۔تو وقتی جوش کسی کام کا نہیں ہوتا۔سوائے اس کے کہ اس سے جو ہر پیدا ہو۔اس سے فائدہ اٹھا لیا جائے۔