زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 242

زریں ہدایات (برائے طلباء) 242 جلد سوم اس وقت ہمارے سکول کی دسویں جماعت کے لڑکے امتحان کے لئے جانے والے ہیں۔چونکہ ہر ایک کے متعلق یہی امید ہونی چاہئے کہ وہ پاس ہو کر اعلیٰ تعلیم کے لیے جائے اس لئے ان کے دوستوں اور ان کے بزرگ مدرسوں کو طبعا اس بات کا احساس ہو رہا ہے کہ وہ ان سے جدا ہور ہے ہیں۔اسی طرح وہ لڑکے بھی اپنی جدائی محسوس کر رہے ہیں۔ان کے دلوں میں بھی غم ہے۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے جدائی پر غم تو حیوانات اور نباتات میں بھی پایا جاتا ہے۔یہ غم ایک گائے اور ایک درخت کو بھی ہوتا ہے۔اس سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو یہی کہ غم کرنے والے نباتات اور حیوانات میں شامل ہیں۔لیکن اگر وہ اس غم کی یاد یہاں سے جانے کے بعد بھی تازہ رکھیں اور ان واقعات، ان نصیحتوں اور ان ذمہ داریوں کو محسوس کرتے رہیں جن کا احساس ان میں یہاں پیدا کیا گیا ہے اور اپنی زندگی اسی طرح بسر کریں جس طرح یہاں بسر کرتے رہے ہیں تب معلوم ہوگا کہ وہ انسانی زندگی کے معیار پر پورے اترے ہیں۔میں اس سال کی دسویں جماعت پر خصوصیت سے اس لئے خوش ہوں کہ میں نے بچوں کی اصلاح کے متعلق گزشتہ سال چند خطبے پڑھے تھے۔اس جماعت نے خصوصیت سے ان پر عمل کرنے کی کوشش کی اور سوائے چند کے باقیوں نے اپنے وعدوں کو نبھایا اور کوشش کی کہ اپنے ظاہر کو بھی اسلامی شعار کے مطابق بنائیں۔چونکہ انہوں نے اس بارے میں مثال قائم کی ہے اس لئے میں ان سے پہلوں کی نسبت زیادہ خوش ہوں۔لیکن اگر وہ اس تبدیلی کو اسی حد تک رکھیں کہ جب تک یہاں رہے اس کے پابند ر ہے اور جب یہاں سے جدا ہو کر باہر چلے جائیں تو اس پر قائم نہ رہیں اور نئی ایسوسی ایشن کے اثر کے نیچے آجائیں تو معلوم ہوگا کہ یہاں انہوں نے صرف بچپن کا جوش دکھایا۔حقیقی تبدیلی پیدا نہ کی تھی۔لیکن اگر وہ یہاں سے جانے کے بعد بھی ان نصائح کی پابندی کریں، اگر ان کے قول ٹوٹ نہ جائیں، اگر وہ اپنے وعدے فراموش نہ کریں تب یقین ہوگا کہ ان کے وعدے سچائی پر مبنی تھے اور واقعہ میں ان میں اخلاص تھا۔لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو یہی کہنا پڑے گا کہ ان کے سب احساسات اور جذبات وقتی اثر کا نتیجہ تھے اور ان کا غم بناوٹی غم تھا۔بہت سے انسان دنیا میں ایسے ہوتے ہیں جو ایک بات دل سے بیان کر رہے