زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 241

زریں ہدایات (برائے طلباء) 241 جلد سوم طاقت کا احساس ان کے دل سے مٹ گیا ہے اور ایک اور طور پر بے چینی کے ذریعے انہیں غم ہوا ہے۔ان کی مثال اس سونے والے کی طرح ہوتی ہے جس کے احساسات پر نیند کا پردہ پڑا ہوتا ہے۔وہ بستر پر پڑے ہوئے کسی کنکر وغیرہ کے درد اور تکلیف کو نہیں محسوس کرتا جو اسے پہنچ رہی ہوتی ہے مگر بے چینی اسے ہوتی ہے جو اس کے کوٹنے اور بار بار پہلو بدلنے سے ظاہر ہورہی ہوتی ہے۔پس یہ قانون قدرت ہے کہ جدائی کے موقع پر انسان کو غم اور رنج محسوس ہو۔اسی وجہ سے ایک لڑکا جو کئی سال ایک جگہ پڑھتا، کچھ لوگوں کو اپنا دوست بنا لیتا اور کچھ سے علم حاصل کر کے تعلق پیدا کر لیتا ہے ان حالات میں جب وہ اس جگہ سے جدا ہونے لگتا ہے تو غم محسوس کرتا ہے اور جن سے جدا ہورہا ہوتا ہے انہیں بھی غم ہوتا ہے۔آگے غم بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک غم تو وفاداری کی علامت ہوتا ہے اور ایک اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ حیوانیت زندہ ہے۔ہر چیز جو زندہ ہے جدائی کا غم محسوس کرتی ہے۔اور اب تو یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ درختوں میں بھی یہ احساس ہے بلکہ بعض حالتوں میں انسانوں سے بڑھ کر احساس ہے۔ایسی صورت میں جو جدائی کا غم ایسا ہو کہ کچھ عرصہ کے بعد جاتا رہے وہ ایسا ہی غم ہوگا جو دوسرے جانداروں اور درختوں میں بھی پایا جاتا ہے۔لیکن اگر وہ غم یادر ہے، اس کے اثرات پائے جائیں اور وہ ہمیشہ تازہ در ہے تو وہ حیوانوں اور درختوں کے غم سے علیحدہ ہوگا۔یہی فرق ہے انسانی اور حیوانی غم میں۔ورنہ یوں تو حیوانوں کو بھی غم ہوتا ہے۔ایک گائے کا بچہ اس سے جدا ہو جائے تو وہ بھی اس کے لئے چلائے گی اور شور مچائے گی لیکن چار پانچ دس بارہ دن تک بچہ کو بھول جائے گی۔اور پھر اگر وہی بچہ اس کے پاس لایا جائے تو مار کر اسے علیحدہ کر دے گی۔اس کے مقابلہ میں اگر ایک انسان کا بچہ کھویا جائے تو سالہا سال گزر جانے کے بعد حتی کہ 20 30 یا 40 سال کے بعد بھی جب ماں باپ بستر مرگ پر پڑے ہوں گے اُس وقت بھی انہیں یہی خیال تکلیف دے رہا ہو گا کہ نہ معلوم ہمارے بچہ کا کیا حال ہوگا اور وہ کہاں اور کس حالت میں ہوگا۔تو انسان اور دوسری چیزوں کے غم میں یہ فرق ہے۔حیوانوں کو بھی جدائی سے غم محسوس ہوتا ہے مگر وہ جلدی بھول جاتے ہیں اور انسان ایسے صدمہ اور غم کو یا درکھتا اور موت تک یاد رکھتا ہے۔