زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 227

زریں ہدایات (برائے طلباء) 227 جلد سوم لیکن چونکہ ہدایت اور تربیت کرنے والا کوئی نہیں ملا اس لئے اچھی طرح اسے نہیں نبھا سکے۔جو ماہر فن ہوتے ہیں وہ شعر کو بلند پڑھ سکتے ہیں۔تمام لوگ ایسا نہیں کر سکتے۔لیکن بعض اشعار ایسے ہوتے ہیں کہ آپ ہی آواز بلند کرالیتے ہیں اور بعض ایسے نہیں بھی ہوتے۔یہ اشعار جو پڑھے گئے ہیں یہ اسی قسم کے تھے کہ آواز کو بلند کرا لیتے۔پھر جن اشعار کا اس وقت کے لئے انتخاب کیا گیا ہے معنی کے لحاظ سے مناسب موقع تھے۔ردیف اور قافیہ ایسا تھا کہ جن میں ہر شخص ان اشعار کو بلند آواز سے پڑھ سکتا تھا۔لیکن چونکہ ان کی تربیت نہ تھی اس لئے وہ اونچی آواز سے ان کو نہ پڑھ سکے۔ہاں اگر تربیت کی جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ آواز جو اس وقت ہلکی تھی بلند ہو سکتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ تربیت کے بعد یہ اچھی طرح بلند آواز سے پڑھ سکتے ہیں محض تربیت کے نہ ہونے سے بلند آواز سے نہ پڑھ سکے۔ایڈریس جو مولوی چراغ الدین صاحب نے پڑھا ہے ان کی قومی جھلک اس سے نمایاں تھی۔اور مولوی صاحب نے پہلی ہی دفعہ غالباً یہ ایڈریس پڑھا ہے لیکن باوجود اس کے ان کی غلطیاں کم تھیں لیکن میں سمجھتا ہوں اگر وہ کوشش کریں تو غلطیوں کو کم کر سکتے ہیں۔ان کی آواز میں ایک قسم کا درد اور احساس بھی تھا جو اگر معانی کے ساتھ ساتھ چلایا جاتا تو اثر کرنے والا تھا۔خالی لفظ اثر نہیں کر سکتے۔ایک ہی لفظ ہوتے ہیں ایک جرنیل کہتا ہے آگے بڑھو۔لوگ پیچھے ہٹتے ہیں۔دوسرا جرنیل کہتا ہے تو سب کے سب بڑھ جاتے ہیں۔فرق صرف یہی ہوتا ہے کہ ایک کے ساتھ دل میں درد اور احساس ہوتا ہے اور ایک کے ساتھ نہیں۔دنیا میں ایسی مثال نپولین کی ملتی ہے۔ایک دفعہ اسے قید کر کے لے گئے اور اس کی جگہ دوسرے کو بادشاہ بنا دیا۔کچھ عرصہ کے بعد وہ آزاد ہو کر آ گیا۔اور کئی آدمی پرانی اور ٹوٹی پھوٹی لٹھیں لے کر اس کے ساتھ ہو گئے اور وہ ان سب کے ساتھ حملہ آور ہوا۔ادھر سے سب سے بڑا جرنیل اس کے مقابلے کے لئے کھڑا کیا گیا۔اور فرانس کا پادری بھی بائبل میز پر رکھ کر آ گیا اور اس جرنیل نے اس کے سامنے بائیل پر ہاتھ دھر کر مقابلے کی قسم کھائی۔ایسا ہی تمام سپاہیوں سے بھی قسمیں لی گئیں کہ ہم مقابلہ کریں گے۔پھر یہ ایک باقاعدہ فوج تھی۔اس کے پاس ہر قسم کا