زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 226
زریں ہدایات (برائے طلباء) 226 جلد سوم طلباء کو نصائح 5 فروری 1926ء کو طلباء مدرسہ احمدیہ کی طرف سے مکرم شیخ محمود احمد صاحب کو ایڈریس پیش کرنے کے لئے ایک مجلس کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حسب ذیل خطاب فرمایا:۔مجھے اس بات سے بہت خوشی ہوئی ہے کہ آج جن لڑکوں نے قرآن نظم اور ایڈریس پڑھا وہ ان لڑکوں سے مختلف ہیں جو ہمیشہ ایسے موقعوں پر ان چیزوں کو پڑھا کرتے تھے۔طلباء کا عام طور پر یہ قاعدہ تھا کہ جب کبھی ایسا موقع آتا تو وہ انہیں لڑکوں کو پڑھنے کے لئے کہتے جو اکثر ان کو پڑھتے۔گویا یہ عید کا جوڑا تھا جو انہوں نے بنا کے رکھا ہوا تھا کہ جس طرح سارے سال کے بعد ایک دفعہ اس جوڑے کو نکال کر پہن لیتے ہیں اسی طرح جب موقع پڑتا ہے تو انہیں لڑکوں کو ایڈریس وغیرہ پڑھنے کے لئے پیش کر دیتے ہیں۔مگر اس دفعہ ایسا نہیں کیا گیا۔اس دفعہ اور لڑکوں کو پیش کیا گیا ہے۔جس لڑکے نے اس وقت ایڈریس پڑھا ہے یہ اس کا پہلا موقع ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہ کوشش کرے تو اس میں ترقی کر سکتا ہے۔اسی طرح دوسرے لڑکے بھی اگر اس بات کی کوشش کریں تو وہ بھی اس میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔مولوی محمد یوسف صاحب نے نظم پڑھی ہے اور بے شک اچھے انداز میں پڑھی ہے لیکن آواز مدہم تھی۔ان کی قوم کی آواز اونچی ہے اور خاص تربیت کے ماتحت اور بھی اونچی ہو جاتی ہے۔اگر آواز ناجائز اور بدی کے لئے صرف کی جاسکتی ہے اور جلب منافع کے واسطے استعمال ہو سکتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ نیکی کے لئے استعمال نہ ہو سکے اور قلوب کو نیک اثر قبول کروانے کے لئے صرف نہ ہو سکے۔ان کی آواز سے معلوم ہوتا ہے کہ قومی رنگ ان کی آواز میں مخفی ہے -