زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 228

زریں ہدایات (برائے طلباء) 228 جلد سوم سامان موجود تھا۔اس پر اس نے مقابلے کی قسمیں بھی کھائیں۔اور نپولین کے ساتھیوں کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔غرض اس طرح وہ فوج نپولین کے لئے آگے بڑھی۔ادھر نپولین کے پاس سامان بھی نہیں تھا، آدمی بھی تھوڑے تھے۔مگر باوجود اس کے وہ فوج جس وقت آئی تو وہ ست راہ ہوا اور ہر اول کو آگے بھیجا کہ ان کو روکو اگر نہ رکیں گے تو ہم پیچھے سے آجائیں گے۔سپاہیوں نے کہا بھی کہ ہم سات سو آدمی آٹھ نو ہزار آدمیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو نپولین نے کہا اگر مقابلہ نہیں کر سکتے تو فرانس کیسے فتح کر سکو گے۔غرض وہ آگے بڑھے اور انہوں نے ان کو جاروکا۔فرانس کی باقاعدہ فوج بنی اور کہا کہ میاں! ہم بوچر نہیں ہیں کہ تمہیں ماریں۔جاؤ نپولین سے کہو اگر لڑنا ہے تو سپاہی لائیے۔چنانچہ نپولین کو جب اس کی اطلاع ملی تو وہ خود وہاں پہنچا۔اور جو فوج پر اباندھ کر کھڑی تھی اس نے کہا کہ کیوں مفت میں اپنی جانیں گنواتے ہو۔ان کو واپس لے جاؤ اور ان کی ہم سے خونریزی نہ کراؤ۔ہم قسمیں کھا کر آئے ہیں۔یہ سننا تھا کہ نپولین نے آواز دی کہ تم میں سے جو چاہتا ہے کہ اپنے بادشاہ کے سینے پر گولی مارے وہ مارے۔اس نے کہنے کو تو یہ جملہ کہہ دیا مگر نہ معلوم اس کے اندر کیا اثر تھا کہ کوئی بھی ان میں سے گولی نہ مار سکا۔ادھر نپولین کے منہ سے یہ فقرہ نکلا ادھر بادشاہی سپاہیوں نے جو قسمیں کھا کر نپولین کے مقابلے کے لئے آئے تھے رائفلیں آسمان پر چھوڑ دیں اور سب اس کی طرف دوڑ آئے۔یہاں تک کہ وہ جرنیل بھی آگیا۔اور وہی فوج جو اُسے پکڑنے کو آئی تھی اس کے ساتھ شامل ہو گئی۔اس کی کیا وجہ تھی ؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان الفاظ کے پیچھے یقین تھا، احساسات تھے، جوش تھا، دل تھا۔اور یقین اور احساس اور جوش اور دل وہ باتیں ہیں کہ اگر وہ کسی آواز کے پیچھے ہوں تو وہ خس و خاشاک کی طرح ہر روک کو صاف کرتی اور ہر راستہ کو پیدا کرتی چلی جاتی ہے۔دنیاوی زندگی میں جو مادی ہے یہ ہمیں نظر آتا ہے کہ اگر کسی آواز کے ساتھ احساس اور یقین ہو تو وہ کایا پلٹ دیتی ہے۔تو اس زندگی کا کیا حال ہوگا جو روحانی ہے اور جس کا منبع ہی خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔اس کے متعلق بہترین مثال ہمیں آنحضرت ﷺ کی دیکھنے میں آتی ہے کہ کس وقت اور کس حال میں آپ کھڑے ہوئے۔وہ کون سے حال تھے جن میں آر