زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 218
زریں ہدایات (برائے طلباء) 218 جلد سوم سے سیکھتے ہو۔ان کی عزت کرو۔اور اپنی زبان کو روکو تا کوئی بری بات یا بے عزتی کا کلمہ اس سے نہ نکلے۔بعض دفعہ لڑکوں کی آپس میں کوئی بات ہو جاتی ہے جو بڑھ جاتی ہے اور ایک دوسرے کو دق کرنا شروع کر دیتے ہیں حتی کہ لڑنے لگ جاتے ہیں۔ایسے موقع پر جب کوئی لڑکا کسی کو تنگ کر رہا ہو تو دوسرے لڑکے تنگ کرنے والے کو روکنے کی بجائے اُلٹے مظلوم پر ہنسیں گے۔پھر یہی نہیں بلکہ ظالم سے کہیں گئے اک ہور لا۔یعنی اور ایک تھپڑ مارو۔ولایت میں ایسا لڑکا نیکی (Bully) کہلاتا ہے جولڑکوں کو چھیڑے اور ناحق تنگ کرے۔اور ایسے لڑکے کے پیچھے سکول کے تمام لڑکے پڑ جاتے ہیں اور اُسے یکی یکی کہ کر اتنا تنگ کرتے ہیں کہ مجبور ہو کر اسے یا اپنی اصلاح کرنی پڑتی ہے یا سکول چھوڑنا پڑتا ہے۔ان کے ہاں مظلوم کی مدد کی جاتی ہے اور ظالم کی نہیں۔لیکن ہمارے ہاں ظالم کی مدد کی جاتی ہے اور مظلوم کی نہیں۔حدیث میں آتا ہے تو اپنے بھائی کی مدد کر خواہ وہ ظالم ہے خواہ مظلوم۔صحابہ نے حیرانی سے پوچھا یا رسول اللہ ! ظالم کی کیسے مدد کی جاسکتی ہے؟ فرمایا اگر وہ ظالم ہے تو اس کے ہاتھ کو ظلم سے روکو۔ظالم کی یہ مدد ہے کہ ظالم کو ظلم سے بچاؤ 4 تمہارے سامنے اگر بڑے چھوٹوں پر ظلم کریں تم ان کو روکو۔امیر غریبوں پر زیادتی کریں تو ان کو روکو۔بادشاہ ہونے کی صورت میں بھی تو وہی کچھ کیا جاسکتا ہے جب بادشاہ نہ ہونے کی صورت میں ایسا کرنے کی عادت ہو۔پس تم ایسی عادتیں ڈالو اور کسی کو دوسرے پر ظلم مت کرنے رو۔پھر میں ایک اور بات کی طرف بھی بچوں کو توجہ دلاتا ہوں۔بے شک جنسی ایک حد تک جائز ہے لیکن تمسخر جائز نہیں۔میرے پاس ایک لڑکے کا جھگڑا آیا ہے اس نے نماز پڑھتے ہوئے کسی لڑکے کو چھیڑا تھا۔اس جرم کی سزا میں استادوں نے چار بید اس کو لگوا دیئے اور تین اُسے جسے چھیڑا تھا۔میں نے چھیڑنے والے کے متعلق سمجھا کوئی اور ہوگا جسے میں جانتا ہوں وہ نہیں ہوگا۔ب مجھے پتہ لگا کہ یہ وہی ہے جس کے متعلق میرا خیال تھا کہ وہ ایسی شرارت نہیں کر سکتا تو مجھے