زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 219
زریں ہدایات (برائے طلباء) 219 جلد سوم حیرت ہوئی کہ ایسے خاندان کا لڑکا جو مخلص ہے اور جس کے سارے ممبر مخلص ہیں ایک ایسی شرارت کرے جو پرلے درجے کی کمینہ شرارت ہے وہ گو میرے پاس کم آتا ہے اور اُسے شاید خیال ہے کہ میں اُسے نہیں جانتا لیکن اس کی کم سے کم میں شکل شناخت کرتا ہوں۔اس نے ایسی پاجیانہ اور کمینہ حرکت کی ہے جو نہایت ہی قابل ملامت ہے۔بازی بازی باریش با با هم بازی کھیل تو کھیل تھی ہی نماز سے بھی کھیل شروع ہوگئی۔میں نہیں سمجھتا کہ وہ لڑکا اپنے باپ کی داڑھی کے ساتھ بھی کھیلے گا۔یہ تمسخر اور نا جائز جنسی کی عادت کا نتیجہ ہے کہ وہ بڑھتے بڑھتے اب خدا کی عبادت پر بھی ہنسی محول کرنے سے نہ رکا۔ابتدا میں افسروں نے کچھ لحاظ کیا جس سے وہ بڑھ گیا۔تمسخر اور ہنسی انسان کے ایمان کو خراب کر دیتی ہے۔اگر فوراً اس کی گوشمالی ابتدا ہی میں کردی جاتی اور اسے شروع ہی میں روکا جاتا تو وہ ایسی پاجیانہ حرکت نہ کرتا۔اور اگر والدین یا استاد سمجھدار ہوتے تو اس کی ایسی حرکات پر نہ کوئی رعایت کر سکتا اور نہ چشم پوشی سے کام لیتا بلکہ قرار واقعی اس کو سزادی جاتی۔اور سارے کے سارے سکول کے لڑکے اگر اس کے برخلاف ہو جاتے اور اسے تنگ کرتے تو وہ سمجھ جاتا اور پھر آئندہ ان حرکات کا مرتکب نہ ہوتا۔لوگ کسی کی رعایت ڈر کے مارے کرتے ہیں اور اُستاد بھی کسی لڑکے کے شرارت کرنے پر بھی صرف اس لئے چپ رہتے ہیں کہ بڑے آدمی کا لڑکا ہے لیکن اگر دوسری طرف سے بھی بڑی طاقت کھڑی ہو جاتی ہے تو پھر وہ ڈر کے مارے انصاف کرتے ہیں۔پس جہاں میں بڑوں کو کہتا ہوں کہ وہ انصاف اور رعایت انصاف اور رعایت کے اصول کی بناء پر کریں وہاں ہی میں چھوٹوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ جنسی اس حد تک نہ کریں کہ ناجائز ٹھہر جائے کیونکہ یہ ایک بُری بات ہے اور تمسخر کی عادت نہ ڈالیں کہ یہ پاجیانہ فعل ہے۔پھر میں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ والدین کی خدمت اور اطاعت کرو۔رسول کریم کے فرماتے ہیں جنت ماں باپ کے قدموں کے نیچے ہے پس اس جنت کے لینے کی کوشش کرو اور اس جنت کا لینا یہی ہے کہ ماں باپ کی خدمت اور اطاعت کی جائے۔آجکل بچوں میں یہ بات صلى الله