زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 217
زریں ہدایات (برائے طلباء) 217 جلد سوم صلى اور یہ مت سمجھو کہ بڑے آدمی کے بیٹے ہو۔رسول کریم ﷺ جب کہیں باہر جاتے تھے تو خود کھانے پکانے میں حصہ لیتے تھے۔میں بھی ایسا ہی کرتا ہوں۔جب کبھی باہر جاتا ہوں تو اپنے حصہ کا کچھ کام آپ بھی کرتا ہوں لیکن لوگ اسے ہتک سمجھتے ہیں۔بچوں کے لئے ان باتوں کو آسودہ حال ہونے کے سبب چھوڑ دینا یا کسی اور وقت سیکھنے کے خیال سے موجودہ زمانہ میں ان کی طرف متوجہ نہ ہونا ہر گز درست نہیں۔کیونکہ ہر ایک کام کے لئے ایک وقت ہوتا ہے اور جب وقت گزر جائے تو پھر مشکل ہو جاتی ہے۔اس لئے اُس زمانہ سے پہلے عادت ڈالو تا تمہیں ضرورت کے موقع پر کسی کام کے کرنے سے ہچکچاہٹ نہ پیدا ہو اور کوئی تکلیف نہ ہو۔ہر موقع پر نوکروں سے کام لینے کی عادت مت ڈالو۔میں نے دیکھا ہے بڑے بڑے لوگ جنہیں نوکروں سے کام لینے کی عادت ہوتی ہے جب یہاں آتے ہیں تو انہیں تکلیف ہوتی ہے۔نوکر ساتھ نہیں ہوتے۔خود وہ کچھ کر نہیں سکتے۔پس تم نوکروں سے یا دوسروں سے کام کروانے کی بجائے خود کام کرنے کی عادت ڈالو۔کیونکہ بغیر اس کے انسان کامیاب نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اگر کہیں اُسے کام کرنا پڑ جاتا ہے تو کر نہیں سکتا اور یہ ظاہر ہے کہ کامیابی بغیر کام کرنے کے حاصل نہیں ہو سکتی۔اور دوسرے اخلاق فاضلہ میں سے کام کرتا بھی ہے اس لحاظ سے بھی اس کا عادی ہونا چاہئے۔پھر میں جہاں تمہیں کام کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں ہلانے کے لئے کہتا ہوں وہاں یہ بھی کہتا ہوں کہ زبان کو روکو۔ہمارے ملک میں دستور تھا اور بہت اچھا دستور تھا کہ بڑے آدمی کی تنبیہ کا چھوٹا جواب نہ دے۔لیکن اب اگر کسی لڑکے کو اس طرح جواب دینے سے روکا جائے تو وہ کہہ دیتا ہے فلاں ہمارا کیا لگتا ہے جو ہم جواب نہ دیں۔میں بتا تا ہوں وہ تمہارا کیا لگتا ہے۔وہ تمہارا استاد لگتا ہے۔یہ زبان، یہ عادات، یہ اخلاق سب قومی ہیں اور تم نے ان سے ہی سیکھے ہیں جو تم سے بڑے ہیں۔پس جتنے بڑے ہیں وہ تمہارے استاد ہیں کیونکہ جو کچھ تم سیکھ رہے ہو ان ہی سے سیکھ رہے ہو۔تو ان کو استاد سمجھ کے ان کی عزت کرو۔نہ صرف ہندو اور سکھ بلکہ چوہڑا بھی اگر تم سے بڑی عمر کا ہے تو اس کی بھی عزت کرو۔کیونکہ بیسیوں باتیں ایسی ہیں جو تم بڑوں