زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 216
زریں ہدایات (برائے طلباء) 216 جلد سوم ہمارے ہاں اسٹیشنوں پر قلی ہوتے ہیں جن سے لوگ کام لیتے ہیں اور خود اپنا چھوٹا موٹا اسباب اٹھانا بھی ہتک سمجھتے ہیں۔لیکن میں نے اپنے سفر یورپ میں دیکھا ہے کہ یورپ میں کوئی قلی نہیں ہوتا۔امریکہ کا ایک آدمی میرے ساتھ سفر کر رہا تھا۔اس کا تمام خاندان اس کے ساتھ تھا۔اس سفر پر ان کا دو لاکھ روپیہ کے قریب خرچ ہو چکا تھا۔فرسٹ کلاس میں سب لوگ سفر کر رہے تھے اور ابھی کئی ملکوں میں انہوں نے پھر نا تھا۔مگر باوجود اس کے سب کام اپنے آپ کرتے تھے۔کسی جگہ انہوں نے یہ نہیں کیا کہ کسی قلی کا انتظار کریں یا کسی کو مدد کے لئے بلائیں۔بلکہ اپنا اسباب آپ اٹھاتے اور خوشی کے ساتھ ان کے چھوٹے بڑے سب کام کرتے۔بچوں کے لئے بچپن کا زمانہ سیکھنے کا ہے اس لئے اس میں ہر بات سیکھو۔خود اپنا کام آپ کرنے کی مشق کرو۔اور دوسروں کی مدد ڈھونڈنے سے حتی الوسع بچو تا کہ تمہیں کام کرنے کی عادت پڑے۔اگر کام کرنے کی عادت نہ ہو تو کسی ایسے موقع پر جبکہ تمہیں خود ہی کام کرنا پڑے تم کچھ نہیں کر سکو گے۔مثلاً کوئی غریب پڑا ہے وہ چل نہیں سکتا یا اسے کوئی اور تکلیف ہے وہ کسی کام کے کرنے سے مجبور ہے اب اگر کسی لڑکے کو خود کام کرنے کی عادت نہیں تو وہ اس کی کچھ مدد نہیں کر سکے گا۔اور ایسا ہی اگر اس کو محنت اور مشقت کی عادت نہیں اور اسے کوئی کام خود کرنا پڑ گیا ہے تو وہ اپنی مدد کے لئے بھی ادھر اُدھر دیکھتا رہے گا۔اور کوئی آدمی ہے کوئی آدمی ہے کی آواز میں لگائے گا۔لیکن اگر اسے کام کرنے کی عادت ہے اور محنت و مشقت کو برداشت کر سکتا ہے تو وہ کسی کی انتظار نہیں کرے گا اور کسی کی مدد کا منتظر نہیں رہے گا بلکہ فورا سب کام خود ہی کر لے گا۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اسمع الاول کے پاس ایک آدمی آیا۔کچھ دوائیوں کا کام تھا اور کوئی دوائی دوسری جگہ سے لائی تھی۔آدمی ذرا آسودہ حال تھا۔ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔حضرت خلیفتہ اسیح الاول نے دریافت فرمایا کیا دیکھتے ہو؟ کہنے لگا کسی آدمی کو دیکھتا ہوں کہ مجھے وہ دوائی لا دے لیکن مجھے کوئی آدمی نظر نہیں آتا۔اس پر آپ نے فرمایا تھوڑی دیر کے لئے تم ہی آدمی بن جاؤ۔غرض | ہمارے ملک میں جو امیر ہوتے ہیں وہ اپنے آپ کو آدمی سے کچھ اوپر سمجھتے ہیں۔تم خود کام کرو