زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 215
زریں ہدایات (برائے طلباء) 215 جلد سوم انگلینڈ گیا تو وہاں ایک بڑا آدمی مجھ سے ملنے کے لئے آیا۔تحفہ کے طور پر میں نے اسے چند کتا بیں دیں اور ایک آدمی سے کہا کہ سواری تک لے جا کر دے۔مگر اس نے اصرار کے ساتھ خود اٹھالیں۔ہمارے ملک میں اگر بڑے آدمی کو کتابیں دی جائیں تو اول تو وہ نہ لینے کے لئے کوئی بہانہ بنائے گا کہ پھر منگوالوں گا۔اور اگر لے بھی لے تو بہت برا منائے گا۔مگر یورپ میں یہ بات نہیں۔وہاں بڑے بڑے لوگ بنڈل خود اٹھاتے اور اس میں کوئی عار نہیں سمجھتے۔تو ہمارے ملک میں یہ بڑا نقص ہے اور اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ والدین ان باتوں کی عادت بچپن میں نہیں ڈالتے۔اور پھر بیرونی اثرات سے محفوظ رکھنے کی بھی کوشش نہیں کرتے۔وہ یہ سمجھتے ہیں ابھی بچہ ہے بڑا ہوگا تو آپ ہی سیکھ جائے گا۔اور خود بچے بھی یہی خیال کرتے ہیں۔حالانکہ یہی وقت ہوتا ہے جب بچہ کو آئندہ کے لئے تیار کیا جا سکتا ہے جسے بعض والدین لاڈ پیار میں گنوا دیتے ہیں۔پچھلے زمانہ میں والدین جب استاد کے سپرد کرتے تھے تو ساتھ ہی استاد سے کہہ دیتے تھے اس کی ہڈیاں ہماری اور گوشت پوست تمہارا۔جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ ہڈی نہ ٹوٹے باقی جتنی سزا تم چاہو دے لو۔میں یہ نہیں کہتا کہ یہ اچھی بات تھی۔یہ تو بچے لو یہ پر ظلم تھا۔لیکن کم از کم اس سے اتنا تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلے زمانہ میں والدین اپنی اولاد میں اچھی باتیں پیدا کر جانے کے بہت خواہشمند ہوتے تھے۔وہ اس بات کی پرواہ نہ کرتے تھے کہ ان کے بچے کے ساتھ استاد کیا سلوک کرتا ہے بلکہ وہ یہ بات چاہتے تھے کہ ان کے بچے میں محنت مشقت کی عادت پڑے اور یہ اچھی عادتیں اور عمدہ باتیں سیکھ جائے۔اس لئے وہ اس قسم کی بات استاد سے کہہ دیتے تھے جسے بعض استاد عملی طور پر پورا بھی کرتے۔ہمارے رشتہ داروں میں سے ایک لڑکا تھا اسے جب استاد کے سپرد کیا گیا تو استاد نے دوسرے لڑکوں کے ساتھ اسے بھی ایک رمبا 3 دے دیا اور لڑکوں کے ساتھ گھاس کھودنے کے لئے بھیج دیا۔یہ کوئی اچھی بات نہیں۔میں اسے پسند نہیں کرتا۔مگر میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ لڑکے اخلاق فاضلہ نہ سیکھیں یا کام سے جی چرانے کی عادت اختیار کریں۔انہیں چاہئے اچھے اور عمدہ اخلاق سیکھیں۔اور جو کام ہو اسے اپنے ہاتھوں سے کرنے کی مشق کریں۔اور ہر حال میں عمدہ نمونہ بن کر دکھا ئیں۔