زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 214
زریں ہدایات (برائے طلباء) 214 چار سوم شروع میں ہی کام نہ کرنے کے لئے پیدا ہو جاتی ہے۔اس لئے آج اگر نیت کرو گے تبھی زندگی میں کوئی ایسا دن آئے گا کہ تم کچھ کر سکو گے۔ورنہ بڑے ہو کر تمہاری فطرت مر جائے گی۔حضرت مسیح موعود جب فوت ہوئے تو مخالفت حد سے بڑھ گئی۔حتی کہ جماعت کے بعض بڑے بڑے لوگ بھی گھبرا گئے کہ اب کیا ہوگا۔مگر میں نے اُسی وقت یہ عہد کیا تھا کہ خدایا! اگر ساری کی ساری جماعت بھی مرتد ہو جائے گی اور میں اکیلا رہ جاؤں گا تو بھی میں اس صداقت کو پھیلاؤں گا جو حضرت مسیح موعود لائے۔اُس وقت میری عمر انیس سال کی تھی۔اب تم میں بہت سے لڑکے اسی عمر کے ہیں۔ذرا اپنے دلوں کو ٹولیں کہ کیا ان میں بھی یہ ارادہ، یہ عزم، یہ احساس اور یہ نیت پائی جاتی ہے۔اگر نہیں تو اس کو پیدا کرنا چاہئے اور کام کرنا چاہئے۔لیکن شرط یہ ہے کہ محجب اور تکبر نہ ہو بلکہ اخلاص اور بلند حوصلگی ہو۔تم ارادہ کرو کہ ہمیں سب کچھ کرنا ہے اور یہ نہ خیال کرو کہ ہم نے یہ کیا ہے۔اگر ایسا ارادہ نہ کرو گے تو کبھی کچھ نہ کر سکو گے۔عجب اور بلند حوصلگی میں یہی فرق ہے کہ جس نے کام کیا اور کر کے یہ کہا کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا اس نے عجب کیا۔لیکن بلند حوصلہ شخص کام کر کے بھی یہی کہتا ہے کہ میں نے کچھ نہیں کیا مگر سب کچھ کرتا ہے۔گویا تکبر اور مجب کرنے والا ماضی کی باتیں کہتا ہے اور کام کرنے والا مستقبل پر نظر رکھتا ہے۔تم بلند حوصلہ بنو اور بلند حوصلگی سے کام کرو۔مگر عجب اور وہم کو پاس نہ پھٹکنے دو۔دوسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ سب سے اول اخلاق فاضلہ سیکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔کیونکہ یہ جس طرح بڑوں کے لئے ضروری ہیں اسی طرح بچوں کے لئے بھی ضروری ہیں انہیں حاصل کرنے کی کوشش کرو۔اخلاق فاضلہ میں یہ بھی داخل ہے کہ گالی نہ دینا، برے کام نہ کرنا کسی پر ظلم نہ کرنا کسی سے بے ادبی سے پیش نہ آنا۔تمہیں ان باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔پھر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارا ملک ذلیل سمجھا جاتا ہے اور اس کے ذلیل ہونے کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ کوئی کام کرنے والا ذلیل ہوتا ہے۔لیکن یورپ کے بڑے بڑے آدمی اوٹی اولی کام اپنے ہاتھوں سے کرتے ہیں۔میں جب کی