زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 199

زریں ہدایات (برائے طلباء) 199 جلد سوم جلسہ تقسیم انعامات احمد یہ ٹورنامنٹ 26 مئی 1925ء کو احمد یہ ٹورنامنٹ میں انعامات کے حقدار قرار دیئے جانے والوں کو انعامات دینے کے لئے ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل خطاب فرمایا :۔چونکہ میری طبیعت اچھی نہیں اور میں کھڑا نہیں ہوسکتا بلکہ بیٹھا ہوا بھی مشکل سے ہوں اس لئے میں بیٹھے بیٹھے دعا سے پہلے چند باتیں کہنا چاہتا ہوں۔اور وہ یہ کہ ٹورنامنٹ کی سب سے مقدم غرض یہ ہے کہ جماعت کے افراد میں چستی اور چالا کی پیدا ہو کیونکہ دین کو بہت بڑا تعلق جسم کے ساتھ ہے۔میں چونکہ بیمار رہتا ہوں اس لئے مجھے تندرستی کی قدر خوب معلوم ہے۔میں نے دیکھا ہے تندرستی میں جس قدر عبادت اور دین کا کام کر سکتا ہوں بیماری میں اتنا نہیں کر سکتا۔صحت کی حالت میں تو بار بار ایسا ہوا ہے کہ متواتر کئی کئی دنوں تک میں رات کو صرف دو گھنٹے کے قریب سویا اور دن میں بھی سونے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔اور یہ سارا وقت دینی کام میں صرف کیا گیا۔پھر اس حالت میں یہ بھی ہوتا کہ میں کام کرتے کرتے 2 بجے رات سویا اور 4 بجے تہجد کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔مگر بیماری میں ایسا نہیں ہو سکتا۔نہ اس قدر عبادت کی جاسکتی ہے جس قدر صحت کی حالت میں کی جاتی ہے اور نہ کوئی دینی کام اس حد تک کیا جا سکتا ہے۔تو صحت کا تعلق روحانیت سے بہت بڑا ہے۔اور جتنے کام انسان کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ان میں صحت کو بہت بڑا دخل ہے۔مثلا تبلیغ ہی ہے ایک بیمار اور کمزور آدمی اس عمدگی سے تبلیغی سفر نہیں کر سکتا جس عمدگی سے ایک تندرست اور اچھی صحت والا کرتا ہے۔تندرست آدمی سخت گرمی کے ایام میں بھی جہاں ضرورت ہو جا سکتا ہے اور تبلیغ کر سکتا ہے لیکن بیار آدمی اپنی جگہ پر بھی تبلیغ نہیں کر سکتا۔