زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 198

زریں ہدایات (برائے طلباء) 198 جلد سوم تو اس لئے ضروری ہے کہ تا دینی کتب سے واقفیت اور ان باریکیوں کا علم حاصل ہو جائے جو قرآن کریم اور احادیث کے سمجھنے کے لیے ضروری ہیں۔لیکن لوگوں تک اپنے اپنے خیالات پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ اردو لٹریچر کے مطالعہ کی طرف توجہ کی جائے۔میں اس کے متعلق متواتر توجہ دلا رہا ہوں۔شاید سکول کے افسروں کو اس طرف توجہ ہو مگر مجھے تا حال ایسی ترقی نظر نہیں آتی جسے معتد بہ ترقی کہا جاسکے۔آج کی تقریب سے میں یہی فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں کہ استادوں اور طلباء کو بتاؤں کہ وہ اردو لٹریچر کی طرف توجہ کریں۔شباب اردو، ہزار داستان زمانہ اور اسی قسم کے اور اردو لٹریچر کے جو رسالے شائع ہوتے ہیں اگر ان کو پڑھا جائے تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ پڑھنے والے اپنے کام سے غفلت کر رہے ہیں۔بلکہ یہ کہا جائے گا کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کیونکہ وہ دوسروں تک اپنے خیالات عمدگی سے نہیں پہنچا سکتے جب تک علم ادب سے واقف نہ ہوں۔چونکہ اب اذان (نماز مغرب ) ہو رہی ہے اس لئے میں اسی نصیحت پر اپنی تقریر ختم کرتا ہوں۔اور دعا کرتا ہوں جس میں سب احباب شریک ہو جائیں کہ امتحان کے لئے جانے والے کامیاب ہوں۔نہ صرف اس امتحان میں بلکہ ان امتحانوں میں جو آئندہ انہیں پیش آنے والے ہیں۔پھر میں ان طالب علموں کے لئے بھی دعا کرتا ہوں جنہوں نے ایڈریس دیا اور ہمیں یہاں بلایا ہے کہ خدا تعالیٰ انہیں حقیقی علم سے حصہ دے اور اپنی رضا کے ماتحت چلائے۔“ ( الفضل 16 مئی 1925ء)