زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 200
زریں ہدایات (برائے طلباء) 200 جلد سوم ایک دفعہ میں نے رویا میں دیکھا ایک شخص دوسرے پر اعتراض کرتا ہے کہ وہ اتنا وقت | کھیل میں صرف کرتا ہے۔میں اعتراض کرنے والے کو سمجھاتا ہوں کہ ایک حد تک ورزش کرنا بھی عبادت میں داخل ہے اور ایک وہ حد ہے کہ اگر انسان نہ کرے تو گناہ گار ہوتا ہے۔پھر میں نے بتایا کہ انسان صحت کو درست رکھ کر اگر دین کا کام کرے تو جتنا وقت چاہے ورزش میں خرچ کر سکتا ہے۔مجھے رویا میں آدمی تو اور نظر آئے مگر شاید میں خود ہی مراد تھا۔گو میں نے اتنی عمدگی کے ساتھ اس پر عمل نہ کیا جتنا کرنا چاہئے تھا۔پس چونکہ صحت قائم رکھنا دین کے لئے نہایت ضروری ہے اس لئے میں نے اس ٹورنامنٹ کو پسند کیا اور اس کا ترقی کرنا میرے لئے پسندیدہ ہے۔مگر اس قسم کی مقابلہ کی کھیلوں سے بعض نقائص بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔مثلاً بلا وجہ ضد اور تعصب۔ٹورنامنٹ کمیٹی کو اس قسم کی باتوں کو مد نظر رکھنا چاہئے۔اور چونکہ یہ باتیں طالب علموں میں پیدا ہوسکتی ہیں اس لئے میں دونوں سکولوں کے ہیڈ ماسٹروں کو بھی توجہ دلاتا ہوں۔یہ دونوں سکول ہمارے دو بازو ہیں۔ہمارا ایک باز و مدرسہ احمدیہ ہے۔جب تک ہمارے پاس مبلغ نہ ہوں ہم دنیا میں تبلیغ نہیں پہنچا سکتے۔اور ہمارا دوسرا باز و ہائی سکول ہے۔جب تک دنیا پر ہم یہ نہ ثابت کر دیں کہ ہم جہالت کی وجہ سے دین کی طرف متوجہ نہیں بلکہ ہم دنیوی علوم بھی رکھتے اور ان میں دوسروں سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں اور دین کی خدمت ہم اس لئے نہیں کر رہے کہ دنیا کما نہیں سکتے بلکہ ہم دنیا کمانے کی قابلیت رکھتے ہوئے بلکہ دنیا کماتے ہوئے بھی دین کی خدمت کر سکتے ہیں کامیاب نہیں ہو سکتے۔پس یہ دونوں سکول ہمارے بازو ہیں کیونکہ ایک اگر مذہبی تعلیم کی تحمیل کے لئے ہے تو دوسرا اس اعتراض کو رد کرنے کے لئے ہے کہ ہم ستی، جہالت اور نادانی سے دین کی طرف متوجہ نہیں بلکہ باوجود دنیوی علوم رکھنے اور دنیا کمانے کی طاقت ہونے کے ہم دین کی طرف متوجہ ہیں تو ہم ان دونوں سکولوں کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتے اگر ان دونوں صیغوں میں بے جا تعصب، ایک دوسرے کے متعلق حقارت پیدا ہو جائے۔مدرسہ ہائی کے طلباء کو مدرسہ احمدیہ کے طلباء دنیا کمانے والے کہیں یا مدرسہ ہائی کے طلباء مدرسہ احمدیہ کے طلباء کو حقیر سمجھیں تو ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔میرے نزدیک دونوں کے لئے ضروری ہے کہ مقابلہ کی