زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 197
زریں ہدایات (برائے طلباء) 197 جلد سوم مدرسہ کا موجودہ کو رس جس کی آخری جماعت اس سال نکلے گی اور جس کے ایک طالب علم نے اس وقت ایڈریس پڑھا ہے اس جماعت کے طلباء کو آداب مجلس کی واقفیت ، جنرل نالج سے اور دوسرے مروجہ علوم سے آگاہی ہونی چاہئے اور زبان بھی شستہ ہونی چاہئے۔میں نے بتایا ہے مدرسہ احمدیہ ترقی کر رہا ہے لیکن بحیثیت مجموعی میرے نزدیک زبان کے لحاظ سے ایسی ترقی نہیں ہوئی جس کے متعلق کہہ سکیں کہ ہمارے فارغ التحصیل طلباء ملک کے ہر طبقہ تک اپنے خیالات پہنچا سکتے ہیں۔آج ہی میں ناظر صاحب دعوت و تبلیغ سے گفتگو کر رہا تھا میں نے انہیں کہا اپنے واعظین سے کہیں کہ اردو کا مطالعہ کیا کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام الف لیلہ اور مقامات حریری کا مطالعہ کیا کرتے تھے جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ اس کام میں اپنا وقت صرف کرتے تھے اور اُس وقت صرف فرماتے تھے جب کہ آپ نے دعوئی نہ کیا تھا مگر آپ کو الہام ہونے شروع ہو گئے تھے اور آپ مخالفین اسلام کے ساتھ مباحثات کر رہے تھے۔ایسے وقت میں بھی آپ مطالعہ کے لیے وقت نکالتے تھے۔اور جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے وقت کا ایک حصہ اس کام کے لئے دے سکتے ہیں اور اس کی ضرورت سمجھتے ہیں تو میں نہیں سمجھتا کوئی اور یہ کس طرح خیال کر سکتا ہے کہ مجھے ایسے مطالعہ کی ضرورت نہیں ہے۔میرے خیال میں ہمارے طلباء اور واعظوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اعلیٰ درجہ کے اردو لٹریچر کا مطالعہ کریں۔میں نے اور کاموں کی وجہ سے اردو لٹریچر کی طرف توجہ نہ کی تو چند ہی دن میں نقص محسوس ہونے لگ گیا۔بعض خیالات جنہیں میں ادا کرنا چاہتا نہ کر سکتا لیکن اس سے پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا۔پھر میں نے مطالعہ شروع کیا تو یہ نقص دور ہو گیا۔بے شک اظہار خیالات کا تعلق صحت سے ہے۔اگر صحت خراب ہو تو خیالات خواہ کتنے ہی اعلیٰ ہوں زبان پر الفاظ ہی نہ آئیں گے۔اسی طرح خیالات کی وسعت علمی قابلیت اور دلائل کی رفعت بھی اظہار خیالات سے تعلق رکھتی ہے مگر اس کا بہت کچھ انحصار لٹریچر کے مطالعہ پر ہے۔اگر انسان ادیب ہو تو دوسرے موانع کے باوجود کچھ نہ کچھ اپنے خیالات کا اظہار کر سکتا ہے۔میں آج اس تقریب پر اسی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اردو ٹر پچر کا مطالعہ کیا جائے۔عربی لٹریچر کا مطالعہ