زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 196
زریں ہدایات (برائے طلباء) 196 جلد سوم تھی۔کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ کتب پڑھائیں۔مگر وقت کی کمی کی وجہ سے نہ پڑھا سکے۔پھر پانچ سال کے قریب عرصہ ہوا ایک اور تغیر ہوا۔مدرسہ میں انگریزی، اردو، حساب، جغرافیہ اور سائنس کی تعلیم کو بھی شامل کیا گیا۔اس نئے دور کے ماتحت جو تعلیم دی گئی اسے حاصل کرنے والے طلباء اس سال نکلیں گے۔اس وجہ سے مدرسہ احمدیہ کے جو طلباء اس سال مولوی فاضل کے امتحان کے لئے جارہے ہیں وہ پہلے دور کی آخری جماعت اور اس دور کی یادگار ہیں۔ہم ابھی نہیں کہہ سکتے کہ تعلیم کا کونسا دور بہتر ہے کیونکہ ابھی ہمارا تجربہ کافی نہیں ہوا۔لیکن ایک بات یقینی ہے اور وہ یہ کہ خدا کے فضل سے مدرسہ احمدیہ کے طلباء ہر سال بہتر حالت میں نکل رہے ہیں اور یہ ہمارے لیے بہت خوشی کی بات ہے۔دراصل تعلیمی کورس کچھ نہیں کیا کرتے۔کورس بطور مدد کے ہوتے ہیں۔کیونکہ ہر ایک استاد اتنی قابلیت نہیں رکھتا کہ ہر طالب علم کی نگہداشت کر سکے اور سمجھ سکے کہ اسے کس طرح تعلیم دینی چاہئے تا وہ کامل بن سکے۔چونکہ ہر استاد میں اور ہر وقت یہ قابلیت نہیں ہوتی اس لئے کوشش کی جاتی ہے کہ ایسے سامان ہوں جن کی وجہ سے اگر استاد کی طرف سے غفلت بھی ہو تو تعلیم میں نقص نہ ہو۔اور اگر قابلیت نہ رکھے تو بھی نقص نہ آئے۔پس کورسوں کا تغیر تعلیم کے لحاظ سے کوئی بڑی بات نہیں۔اگر استاد یہ مد نظر رکھیں کہ ہمیں طلباء کو کیا بناتا ہے لیکن پھر بھی چونکہ کورس کا اثر ہوتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ مختلف دوروں پر غور کریں۔اس میں شک نہیں کہ مدرسہ کی تعلیم ہر سال بہتری کی طرف جارہی ہے۔اور میرے نزدیک جب سے یہ سکول قائم ہوا ہے بعض حالات سے قطع نظر کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اس کا قدم ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے۔اور میں سمجھتا ہوں اگر اس کا انتظام طبعی طریق پر جاری رہا تو ایک دن ایسا آسکتا ہے کہ اس سے ایسے طالب علم نکلیں جیسی کہ ہماری خواہش ہے۔میں ابھی نہیں کہہ سکتا کہ ایسے طلباء پیدا ہو گئے ہیں یا سکول ایسے راستہ پر چل رہا ہے کہ ایسے پیدا ہو سکتے ہیں۔مگر یہ کہہ سکتا ہوں کہ ایک دن آنے والا ہے جب ہم منزل مقصود پر پہنچ سکیں گے۔اسی وجہ سے میں سمجھتا ہوں ہمارے لئے ضروری ہے اور اساتذہ کے لئے اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ دیکھیں کورس کی کونسی تبدیلی ایسی ہے جس نے لڑکوں پر سب سے اچھا اثر کیا ہے۔