زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 191

زریں ہدایات (برائے طلباء) 191 جلد سوم چڑھاتے کہ یہ بھی ایک دیوتا ہے۔یہ ان کی اس مایوسی کا نتیجہ تھا کہ بھلا انسان اس قسم کی ایجاد کہاں کر سکتا ہے۔پس جب ابتدا سے انسان کی عظمت اور ترقی آدم سے مشابہ ہونے یعنی علم حاصل کرنے پر ہے اور علم سے مایوس ہونا ابلیس بنتا ہے تو سمجھ لو انسان کے لئے کس قدر ضروری ہے کہ علم حاصل کرے۔دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ اسلام کے معنی علم اور کفر کے معنی جہالت ہیں۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے کئی جگہ جہالت کا لفظ کفر کے معنوں میں استعمال فرمایا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں مَنْ لَمْ يَعْرِفْ اِمَامَ زَمَانِهِ فَقَدْ مَاتَ مِيْتَةً جَاهِلِيَّةً 1 کہ جو اپنے زمانہ کے امام کو نہیں پہچانتا وہ کفر کی موت مرتا ہے۔پس ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ خود علم سیکھے اور علم پھیلانے کی کوشش کرے۔اور جس طرح مسلمان کے لفظ سے مرد مخاطب ہیں اسی طرح عورتیں بھی ہیں۔مگر چونکہ خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ نبیوں کو اسی قوم میں مبعوث کرتا ہے جو سب سے زیادہ گری ہوتی ہے تا کہ یہ بتائے کہ کس طرح اس نے گرے ہوئے لوگوں کو بڑھا یا اس لئے اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہندوستان میں بھیجا جو تمدنی ، سیاسی علمی حالت میں بہت گرا ہوا ہے تا کہ ہندوستان سے ایک ایسی جماعت پیدا کرے جو ساری دنیا کی استاد ہو۔مگر قوموں کی حالت ایک دن میں نہیں بدلا کرتی۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی پہلی جماعت جاہلوں میں سے ہی لی تھی اس لئے ضروری ہے کہ کچھ عرصہ تک اس جماعت کے لوگ بھی جاہل ہی نظر آتے۔اس وجہ کے ماتحت ہماری جماعت میں بھی یہ نقص ہے کہ مرد بھی تعلیم میں کم ہیں اور عورتیں بھی۔اور اس نقص کا دور کرنا نہایت ضروری ہے۔ہر کام کے لیے وقت مقدر ہے۔پہلے مردوں میں سے اس نقص کو دور کرنے کی ضرورت تھی پھر عورتوں میں سے۔گو اس وقت تک مردوں کی طرف بھی ایسی توجہ نہیں کی گئی کہ جو خوش کن ہو مگر ان کے متعلق امید ہے کہ انہیں ایسے راستہ پر ڈال دیا گیا ہے کہ جس پر چل کر ان کی ترقی ہو سکتی ہے۔اب عورتوں کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔اسی نقص کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ سکول جاری کیا گیا ہے جس کا افتتاح اس وقت کیا جا رہا ہے۔ابتدائی حالت کی وجہ سے اس کی طرف توجہ کم