زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 190

زریں ہدایات (برائے طلباء) 190 جلد سوم ڈھکوسلے ہیں اس لئے مجھے ضرورت نہیں کہ میں آدم کا شاگرد بنوں۔اس انکار علم کی وجہ سے وہ محروم ہو گیا اور محروم ہونے کا یہ نتیجہ ہوا کہ وہ ذلیل ہو گیا۔اور آدم جس نے علم حاصل کیا تھا اس کی نسل غالب آگئی۔اب بھی ہم دیکھتے ہیں دنیا میں عَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاء کا سلسلہ جاری ہے۔ایک قوم علوم کے حصول میں کوشش کرتی ہے اور نئی نئی باتیں نکالتی رہتی ہے۔اور ایک دوسری کہتی ہے یہ کہاں ممکن ہے کہ کوئی نیا علم نکلے۔اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ علم میں ترقی کرنے والی تو میں غالب آ رہی ہیں اور دوسری ذلیل ہو رہی ہیں۔جب یورپ والے توپ اور بندوق کی ایجاد کر رہے تھے تو ایشیا والے کہتے تھے یہ کہاں ممکن ہے کہ کوئی ایسی چیز بھی بن سکے جو دور سے دشمن کو مارے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ والے ترقی کر گئے اور ایشیا والے گر گئے۔پس یہ سمجھنا کہ فلاں بات حاصل نہیں ہو سکتی انسان کو ابلیس بنا دیتا ہے۔اور پھر ایسے انسان سے دنیا میں وہی سلوک ہوتا ہے جو آدم کے مقابلہ میں ابلیس سے ہوا۔جس طرح ابلیس کو نکال دیا گیا اسی طرح ایسے انسانوں کو بھی دنیا سے نکال دیا جاتا ہے۔اور دنیا سے نکال دینے کا یہ مطلب ہے کہ ایسی قوم مٹادی جاتی ہے یا ذلیل اور خوار کر دی جاتی ہے۔اب چونکہ یورپ والے آدم کا کام کر رہے ہیں ، نئے نئے علوم دریافت کرتے اور تمام علوم کو ترقی دے رہے ہیں اس لئے وہ ترقی کر رہے ہیں اور وہ لوگ جو علوم کی طرف توجہ نہیں کرتے اور نئے علوم نہیں نکالتے وہ مٹ رہے ہیں۔امریکہ کے اصلی باشندوں کو دیکھو ان کی کیا حالت ہے۔اسی طرح آسٹریلیا میں پرانی نسل کے کروڑوں انسان تھے مگر اب شاید چند ہزار رہ گئے ہوں گے۔عقلی طور پر ہندوستانیوں کا بھی یہی حال ہے۔گو وہ ہندوستان سے نکالے نہیں گئے مگر ان پر بھی حکومت انہی لوگوں کی ہے جنہوں نے علوم کو ترقی دی۔ان قوموں کا یہ حال کیوں ہوا؟ اسی لئے کہ انہوں نے علم سے استکبار کیا۔مختلف زمانوں میں ابلیس مختلف رنگ اختیار کرتا ہے۔اس زمانہ میں اس نے یہ رنگ اختیار کیا کہ ایجادیں نہیں ہو سکتیں اور یہ ناممکن بات ہے۔چنانچہ جب پہلے پہل ریل گاڑی ہندوستان میں چلی تو ہندوستان کے لوگ اس بات سے انکار کرتے ہوئے کہ آگ اور پانی میں اس قسم کی طاقت کہاں ہو سکتی ہے اسے دیوتا سمجھنے لگے۔اور جب گاڑی کھڑی ہوتی تو انجن پر پھول