زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 192
زریں ہدایات (برائے طلباء) 192 جلد سوم ہوگی مگر ابتدا میں یہ کام ایسا ہی ہوتا ہے۔مجھے یاد ہے ہمارا وہ ہائی سکول جس کی اب ایسی عظیم الشان عمارت کھڑی ہے کہ معائنہ کرنے والے انسپکٹر کہتے ہیں پنجاب بلکہ ہندوستان میں کسی سکول کی ایسی عمارت نہیں اس کا جب پہلے دن افتتاح ہوا تو مرزا نظام الدین صاحب کے کنویں کے پاس ٹاٹ بچھا کرلڑکوں کو بٹھایا گیا تھا۔پھر کچھ دن تک لڑکے مہمان خانہ میں بٹھائے گئے۔پھر ایک کچا مکان بنایا گیا۔اس کے مقابلہ میں آج عورتوں کے سکول کی ابتدا بہت اعلیٰ ہے۔یہ بینچوں پر جن کے آگے میزیں ہیں بیٹھی ہیں۔وہ ٹاٹ پر بیٹھے تھے۔یہ اپنے مکان میں بیٹھی ہیں وہ کسی کی جگہ پر بٹھائے گئے تھے۔پس گو اس سکول کی یہ بنیاد ہے مگر ہائی سکول کی بنیاد سے بہت اعلیٰ ہے۔آج یہ بنیا دا دنی معلوم ہوتی ہے لیکن اگر عورتیں شوق سے کام کریں تو جیسا کہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا اور اس کی صفت رحیمیت اس بات کو ظاہر کرتی ہے یہ سکول بھی اسی طرح ترقی کرے گا جس طرح ہمارے ہائی سکول نے کی ہے۔اور ایک وقت آئے گا جب اس درجہ پر پہنچ جائے گا کہ سارے ہندوستان میں نہیں بلکہ ساری دنیا میں بے نظیر ہوگا۔چونکہ قادیان ام القریٰ ہے اس لئے جس طرح یہاں کے لوگ دین میں نمونہ ہوں گے اسی طرح یہ سکول علم میں دنیا کے لئے نمونہ ہوگا۔پس اس کی ابتدائی حالت سے گھبرانا نہیں چاہئے۔اپنے وقت پر اس میں ترقی آئے گی اور اس قدر ترقی آئے گی کہ اب اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک فضل ہوگا اور خدا تعالیٰ کے فضل کا اندازہ اس کے آنے سے ایک منٹ بھی پہلے کوئی نہیں کر سکتا۔اس امید کے ساتھ اور اس درخواست کے ساتھ کہ عورتیں ہمت اور استقلال کے ساتھ کام کریں میں اس سکول کا افتتاح کرتا ہوں۔اس کی طرف مردوں کی توجہ کو کھینچنا بھی انہی کا کام ہوگا۔اور وہ اگر کوشش کریں گی تو ضرور کھینچ سکیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے ماں کی چھاتیوں میں دودھ اُسی وقت اترتا ہے جب بچہ روتا ہے۔یہ سچ ہے کہ مردوں کے پاس اسباب اور اختیار ہوتے ہیں اور عورتیں بطور طعنہ کہا بھی کرتی ہیں کہ جب مرد کچھ نہ کریں تو ہم کیا کر سکتی ہیں۔مگر انہیں یا د رکھنا