زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 189

زریں ہدایات (برائے طلباء) 189 جلد سوم بنیاد انسان کی پیدائش کے بعد رکھی گئی وہ علم ہے۔اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے ساری چیزیں ابتدا میں خود بنائی ہیں اور پھر ان کی ترقی انسان کے سپرد کی ہے اسی طرح علم کی بنیاد خدا تعالیٰ نے خود رکھی اور اس کی ترقی انسان کے سپرد کر دی۔پہلا آدم خدا تعالیٰ نے خود بنایا آگے ترقی انسانوں کے سپرد کر دی۔پہلے آگ اللہ تعالیٰ نے پیدا کی پھر اس کو قائم رکھنا انسان کے سپرد کر دیا۔اسی طرح تمام اشیاء کی ابتدا خدا تعالیٰ نے خود قائم کی اور انہیں آگے ترقی انسان نے دی۔یہی حال علم کا ہے۔پہلے علم خدا تعالیٰ نے دیا آگے اس میں ترقی انسان کرتے گئے۔اسے بڑھاتے گئے اور ہم برابر ابتدا سے اب تک دیکھتے چلے آتے ہیں کہ انسان علم میں ترقی کرتا جا رہا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ اس قسم کے بھی موجود ہوتے ہیں جو علوم کی قدر نہیں کرتے اور ایسے وجود بھی ابتدا سے ہی چلے آئے ہیں۔ایسے وجودوں کا نام ابلیس رکھا گیا ہے یعنی نا امیدی میں مبتلا رہنے والا۔در حقیقت امید ہی تمام علوم کو بڑھانے اور ترقی دینے والی ہوتی ہے اور جتنی زیادہ امید ہوتی ہے اتنی ہی زیادہ علوم میں ترقی کی جاسکتی ہے۔امید کا لفظ ہمیں دو باتیں بتلاتا ہے۔ایک تو یہ کہ انسان کے لئے ترقیات کے رستے کھلے ہیں۔اور دوسری یہ کہ ہم ان ترقیوں کو حاصل کر سکتے ہیں۔پس جب ہم امید کا لفظ بولتے ہیں تو ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ترقی کا رستہ کھلا ہے اور ہمیں بہت کچھ مانا باقی ہے۔پھر یہ لفظ اس امر پر بھی دلالت کرتا ہے کہ جو باقی ہے وہ ہمیں مل بھی سکتا ہے۔اور نا امیدی کے معنی ہیں ہے تو سہی دنیا میں بہت کچھ مگر ہمیں مل نہیں سکتا۔پس علم سیکھنا اور علم میں ترقی کرنا امید کے ساتھ وابستہ ہے۔اگر کسی کو امید ہوگی تو وہ علم سیکھے گا۔اور اگر نہیں ہوگی تو نہیں سیکھے گا۔ابلیس کے معنے یہی ہیں کہ اس نے علم حاصل نہ کیا۔اس نے سمجھا کہ جو کچھ مل سکتا تھا وہ مجھے مل گیا اور جو مجھے نہیں ملا وہ کسی کو نہیں مل سکتا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی امید منقطع ہوگئی۔خدا تعالیٰ اس کے متعلق فرماتا ہے آبی وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَفِرِينَ 2 اس نے کہا کہ میں اس مصیبت میں نہیں پڑنا چاہتا کہ علم سیکھوں۔استکبار کے معنی کسی چیز کو بڑا سمجھنے کے بھی ہیں۔اس نے اس کو بڑا سمجھا کہ یہ کہاں ممکن ہے یہ باتیں سیکھی جاسکیں چونکہ سب