زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 147

زریں ہدایات (برائے طلباء) 147 جلد سوم چاہتے اور میں ہتک سمجھتا ہوں کہ گورنمنٹ ہم کو کوئی خطاب دے یا کوئی اور اجر دے۔مجھ کو ایک مرتبہ ایک بڑے آدمی نے خط لکھا کہ اگر آپ کو ”ہز ہائی نس“ کا خطاب دیا جائے تو آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے اس کو لکھا کہ میں اس کو اپنی ہتک سمجھتا ہوں۔غرض ہم نے کبھی گورنمنٹ کی خوشامد نہیں کی اور میں اس سے کسی خدمت کا معاوضہ لینا خواہ وہ ہمارے بزرگوں نے کی یا ہمارے سلسلہ نے اب کی ہے ہتک سمجھتا ہوں۔میں نے گورنمنٹ کی جو تائید کی ہے وہ اس لئے کہ اسلام جو تعلیم دیتا ہے اس پر عمل کرنا میرا فرض ہے اور میں بحالات موجودہ ضروری سمجھتا ہوں کہ جب تک ہندوستان ایک نہ ہوگا اور ہندو مسلمانوں میں حقیقی اتفاق و اتحاد نہ ہوگا ہندوستان کی ترقی نہ ہوگی۔اور میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میں اس کا مخالف ہوں کہ زبان سے ہم اتحاد کا شور مچائیں اور دل سے مختلف ہوں جیسا کہ واقعات اور حالات نے ہندو مسلم اتحاد کی حقیقت کو کھول دیا ہے۔یہ بات میں آج آپ کے سامنے نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ میں عرصہ سے اس حقیقت کو واضح کر رہا ہوں۔میرے خیالات کی مخالفت بھی ہوئی مگر آج واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ جب تک دل ایک نہ ہوں کچھ نہیں ہو گا۔پہلے ضروری ہے کہ ایسے اصول طے کر لئے جاویں کہ ہند و مسلمانوں میں حقیقی اتحاد ہو جائے۔میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ میں مانگنے کا قائل نہیں۔میں چار پانچ برس کی عمر سے اپنے واقعات کو یا درکھتا ہوں اور میں سچ کہتا ہوں کہ میں نے اپنے باپ سے بھی کچھ نہیں مانگا تھا پس میں مانگنے کا حامی نہیں ہوں۔اگر ہم اتحاد پیدا کر لیں اور وہ اتحاد اخلاص کے ساتھ ہو تو میں دعوئی سے کہتا ہوں کہ سیلف گورنمنٹ خود مل جائے گی مانگنے کی ضرورت نہ ہوگی۔مگر اس اتحاد کے لئے کوشش نہیں کی گئی۔ہندو مسلمانوں کے اتحاد کو صحیح اصول پر قائم کرنے کے لئے کبھی کوشش نہیں ہوئی اور جس نے کی اس کی مخالفت کی گئی۔جن تین بیرسٹروں کا میں نے ذکر کیا ہے ان میں سے ایک ہندو کا میاب بیرسٹر نے جو لاہور میں شاید کام کرتا ہے اُس وقت اپنے مسلمان دوست سے کہا تھا کہ اگر میرے لڑکی ہوئی تو تمہارے لڑکے کو دوں گا اور ایسا