زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 146

زریں ہدایات (برائے طلباء) 146 جلد سوم میں ہمیشہ سے اس امر کو عزت کی نظر سے دیکھتا ہوں کہ ایک شخص آزادی ضمیر کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرے۔کچھ پرواہ نہیں اگر وہ میرے خلاف بھی ہو۔میں نے اپنے خلاف سخت سے سخت خیالات کے اظہار کو بھی خوشی سے سنا ہے۔ایک واقعہ کا ذکر کرتا ہوں۔بارہ سال کے قریب ہوتے ہیں جب میں حج کے لئے آیا تھا تو اُس جہاز میں تین بیرسٹر بھی تھے جو ہندوستان سے آ رہے تھے۔انہوں نے امتحان پاس کر لیا تھا۔ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ میں باقی سلسلہ احمدیہ کا بیٹا ہوں۔ان سے جہاز پر مذہب کے متعلق گفتگو ہوتی رہی اور اس سلسلہ میں وہ حضرت صاحب کے متعلق سخت الفاظ استعمال کرتے رہے مگر میں نے ظاہر نہ ہونے دیا تا کہ ان کو اپنے خیالات کے اظہار میں روک نہ ہو اور وہ اپنے اعتراضات کو چھپائیں نہیں۔میں ان کے اعتراضات کا جواب دیتا رہا۔آخری دن ان کو معلوم ہوا کہ میں بانی سلسلہ احمدیہ کا بیٹا ہوں تو انہوں نے معذرت کی۔میں نے ان کو کہا آپ کو اپنے خیالات کے آزادانہ اظہار کا حق تھا۔غرض میں آزادانہ اظہار رائے کو ہمیشہ عزت اور قدر کی نظر سے دیکھتا ہوں۔ہندوستان کے متعلق جس خواہش کا اظہار آپ نے کیا ہے اس کے متعلق میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھ سے زیادہ کوئی شخص اس کا خواہش مند نہیں ہے کہ ہندوستان آزاد ہو۔خاندانی ٹریڈیشن کے لحاظ سے بھی اگر دیکھا جائے تو ہمارے خاندان نے سات سو سال تک اپنے علاقہ میں حکومت کی ہے جو میرے دادا صاحب پر آکر ختم ہوگئی اس لئے ہمارے خاندان میں حکومت کی روایتیں موجود ہیں۔مجھ کو تعجب ہوتا ہے جب لوگ ہم کو گورنمنٹ کا خوشامدی کہتے ہیں حالانکہ کوئی شخص کبھی بھی یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ ہم نے گورنمنٹ سے کبھی کسی قسم کا فائدہ اٹھانے کی خواہش کی ہو۔گورنمنٹ کے بعض افسروں نے یہ کہا بھی ہے کہ کیوں یہ لوگ خواہش نہیں کرتے۔ہمارے خاندان میں گورنمنٹ کے اعلیٰ افسروں کی چٹھیاں موجود ہیں جن میں ہمارے خاندان کے امتیازات کا اعتراف ہے مگر میں سچ کہتا ہوں کہ ہم نے کبھی ان چٹھیات کو ویسٹ پیپر ( ردی کاغذ) سے زیادہ نہیں سمجھا اس لئے کہ کبھی یہ خواہش پیدا نہیں ہوئی کہ ان کو پیش کر کے کوئی اجر لیں۔اب جو خدمات ہمارے سلسلہ نے کی ہیں ان کے بدلہ میں بھی کچھ نہیں