زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 143

زریں ہدایات (برائے طلباء) 143 جلد سوم لندن میں ہندوستانی طلباء سے خطاب سفر یورپ کے دوران 15 ستمبر 1924ء کو شام چار بجے حضرت خلیفۃ السیح الثانی اور آپ کے خدام کو ہندوستانی طلباء کی طرف سے لندن میں چائے کی دعوت دی گئی۔طلباء کی طرف سے ایڈریس ایک ہندو نو جوان مسٹر سہگل نے پیش کیا۔اس موقع پر حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل خطاب فرمایا:۔برادران ! السّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ مجھے انگریزی میں بولنے کا موقع نہیں ملا۔میں نے انگریزی میں بولنے کی اس سفر میں کوشش کی ہے اور اس لحاظ سے بھی کہ میرے مخاطب ہندوستانی طلباء ہیں میں اس ایڈریس کا جواب اردو میں دوں گا اور ایسے لوگوں کے لئے جو اردو نہیں سمجھ سکتے خواہ وہ چند ہی ہوں عزیزی چودھری ظفر اللہ خاں صاحب انگریزی میں میرے جواب کا خلاصہ سنادیں گے۔جو خواہشات آپ نے اس ایڈریس میں بیان کی ہیں میں انہیں سن کر بہت خوش ہوا۔ان کی روح کے ساتھ مجھ کو ہمدردی ہے اور میں آپ سے اتفاق رکھتا ہوں۔اسلام ایک ایسا مذ ہب ہے کہ اگر کوئی شخص تعصب سے پاک ہو کر عقل سے کام لے تو اس کی فطرت اسے مجبور کرے گی کہ وہ اسلام کو قبول کرے۔اسلام گل دنیا کے لئے آیا ہے اور وہی عالمگیر مذہب ہے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو عقل اور قوت فیصلہ اسی لئے دی ہے کہ اگر وہ اس سے کام لے تو وہ ہدایت کو پالیتا ہے اور اگر اس سے دور بھی چلا گیا ہو تو اتنا دور نہیں ہو جاتا کہ اس کی اصلاح ناممکن ہو بشر طیکہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی قوتوں کو بے کار اور معطل نہ چھوڑ دے۔یاد رکھو جو سچے طور پر کوشش کرتا ہے وہ مقصد کو پالیتا ہے اور راستہ سے بھٹک جانے کے باوجود