زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 144
زریں ہدایات (برائے طلباء) 144 جلد سوم بھی واپس آ سکتا ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ اصول بتایا ہے وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا یعنی جو لوگ ہم میں ہو کر کوشش کرتے ہیں ہم ضرور ضروران پر اپنی راہوں کو کھول دیتے ہیں۔خدا تعالیٰ کا یہ قانون بالکل درست اور تجربہ سے صحیح ثابت ہو چکا ہے اور عقل اس کی تائید کرتی ہے۔پس کامیابی کے لئے کوشش شرط ہے اور وہ کوشش اس طریق پر ہو جو خدا تعالیٰ نے بتایا ہے اور وہ یہی ہے کہ خدا داد عقل سے کام لو۔اسلام کی سچائی عقل اور تجربہ سے ثابت ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر اسلام کو اصلی صورت میں پیش کیا جائے گا تو وہ یورپ، ایشیا، افریقہ، امریکہ غرض ساری دنیا میں یقیناً پھیلے گا اس لئے کہ وہ گل دنیا کے لئے آیا ہے اس کے سوائے اور کوئی مذہب نہیں ہے جو عالمگیر ہو۔اور قرآن شریف میں اس کے تمام دنیا میں پھیل جانے اور تمام ادیان پر غالب آنے کی پیشگوئی موجود ہے چنانچہ آتا ہے هُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلّهِ 2 یعنی خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے اور اس کی غرض یہی ہے کہ اس دین کو گل ادیان پر غالب کر دے اور تمام ادیان کو ایک دین پر جمع کر دے۔ہم کو یقین ہے کہ ایسا ہی ہوگا اور یہ بھی ایک ثابت شدہ امر ہے کہ اس کے لئے یہی زمانہ ہے اور ہماری ساری کوشش اسی مقصد کے لئے ہے۔آپ نے یہ خواہش پیش کی ہے کہ میں اسلام کو صحیح اور سچی شکل میں پیش کروں۔میں اس سے بالکل متفق ہوں اور متفق ہی نہیں بلکہ اگر اسلام کو اس کی حقیقی شکل میں پیش نہ کیا جاوے تو وہ اسلام نہیں بلکہ کچھ اور ہو گا۔اور ہماری غرض تو یہی ہے کہ اسلام کا حقیقی چہرہ دنیا کو دکھائیں اور بدقسمتی سے جو حالت اس کی تبدیل کر دی گئی ہے اور اس کی صحیح تعلیمات کو اعتقادی اور عملی غلطیوں سے بدل دیا گیا ہے اسے پھر دنیا میں ظاہر کیا جائے۔لیکن میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ تفاصیل کے بیان میں اگر انسان کو کوئی اختلاف نظر آئے تو اس کو معقولیت کے ساتھ دیکھنا چاہئے۔بلا غور کئے اس کو اختلاف قرار دے دینا غلطی ہوگی۔بعض اختلاف ایسے ہوتے ہیں جو قدرتی ہوتے ہیں۔مثلاً دو بھائیوں میں یا بہن بھائی میں باوجودیکہ کہ وہ ایک ہی ماں باپ کی