زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 138

زریں ہدایات (برائے طلباء) 138 جلد سوم ترقی کرنے والی قوم کے لئے ورزش کی ضرورت 3 دسمبر 1923ء کو تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں احمد یہ ٹورنامنٹ کے انعامات تقسیم کرنے کے لئے ایک تقریب ہوئی۔اس موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد جو خطاب فرمایا وہ حسب ذیل ہے:۔و سیکرٹری صاحب ٹورنامنٹ نے ابھی کھیلوں کے متعلق اپنی رپورٹ سنائی ہے جس میں بتایا ہے کہ سب اصحاب نے جن کے سپر د کوئی کام کیا گیا تھا کام میں خوب حصہ لیا ہے۔اسی طرح ذولفقار علی خان صاحب نے سیکرٹری صاحب کا شکر یہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے اچھی دلچسپی سے کام کیا ہے۔مجھے چونکہ ان کھیلوں کا زیادہ حصہ دیکھنے کا موقع نہیں ملا صرف ایک دوکھیلوں میں آسکا ہوں اس لئے میں ذاتی مشاہدہ کی بناء پر نہیں کہ سکتا کہ کام کیسا ہوا ہے اور کس نے زیادہ اچھا کام کیا ہے مگر چونکہ یہی آواز آتی ہے کہ سب اصحاب نے اپنا اپنا متعلقہ کام خوب کیا ہے اس لئے ہمیں بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ کام اچھا ہی ہوا ہو گا۔لیکن میں ایک خاص بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ دنیا میں کوئی قوم کسی کام میں ترقی نہیں کر سکتی جب تک وہ یہ نہ بجھتی رہے کہ ابھی اس کام میں اور ترقی ہو سکتی ہے۔جب کام کرنے والے یہ سمجھ لیں کہ ہم نے جو کام کرنا تھا وہ کر چکے اور اب ہمارے آگے ترقی کا کوئی میدان نہیں تو اس خیال کا پیدا ہونا ہی ان کے تنزل کا پہلا سبب ہوتا ہے۔میں نے جہاں تک تاریخ کا مطالعہ کیا ہے مجھے یہی معلوم ہوا ہے کہ جب بھی کسی قوم نے تعلیم میں، حکومت میں، تجارت میں، صنعت و حرفت میں یا کسی اور مفید کام میں یہ سمجھ لیا کہ بس جو کچھ ہم نے کرنا تھا وہ ہم کر چکے تو وہی وقت ان کے تنزل کی ابتدا کا تھا۔