زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 139

زریں ہدایات (برائے طلباء) 139 جلد سوم کہا گیا ہے کہ انجمن ٹورنامنٹ نے اپنے فرائض کو بخوبی ادا کیا اور اگر یہ خیال ہو کہ اس | سے آگے ترقی نہیں ہو سکتی تو میں کہوں گا ایسا خیال تباہی کی علامت ہے چونکہ میرے نزدیک ورزش کا جاری رکھنا جماعت کی دماغی اور جسمانی ترقی کے لئے ضروری ہے اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ ہمیشہ غور کر کے دیکھو کہ کس کس کام میں کیا کیا نقائص تھے۔پھر جو کمیاں یا غلطیاں نظر آئیں ان کو آئندہ سال میں دور کرنے کی پوری سعی اور کوشش کرو۔دنیا کا کوئی کام نہیں جس میں ترقی بند ہوگئی ہو۔ادنی ادنی کاموں میں بھی اور باریکیاں نکل رہی ہیں اس لئے اعلیٰ کاموں میں کیسے ترقی بند ہو سکتی ہے۔پس ایک طرف تو میں ورزش کی جماعت انتظامی کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ غور کرے اس کے کام میں کیا کیا نقائص رہے ہیں اور ان نقائص کو دور کرنے کی کوشش کرے۔دوسری طرف ادھر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے ان کھیلوں میں حصہ لیا ہے اور ان کھیلوں کو دیکھا ہے وہ ان کھیلوں کو محض کھیل اور وقت گزارنے کا ایک مشغلہ نہ سمجھیں۔اگر وہ ان کھیلوں کے متعلق غور سے کام لیں گے تو ان کو معلوم ہوگا کہ کھیلیں کام کرنے کی مشق کراتی ہیں۔کھیلوں میں اخلاق ، صبر، استقلال اور مقابلہ کی طاقت پیدا ہوتی ہے اور یہ باتیں اور ذرائع سے بمشکل پیدا ہوتی ہیں۔بہت بڑے بڑے لوگ ہوئے ہیں جن کی بڑائیوں کی بنیاد فیلڈ گراؤنڈ (بازی گاہ) میں رکھی گئی۔اگر وہ کھیلوں میں حصہ نہ لیتے تو ان کی بڑائی ظاہر نہ ہوتی۔ا ورزش جسمانی ایسی ضروری چیز ہے کہ رسول کریم ﷺ بھی اس میں حصہ لیتے تھے بلکہ ورزش کرنے والوں کا حوصلہ بڑھاتے تھے۔کھیلوں سے میری مراد وہ کھیلیں ہیں جن سے جسمانی طاقتوں میں اضافہ اور جسم اور عقل مضبوط ہوتے ہیں اور فراست میں ترقی ہوتی ہے نہ کہ وہ کھیلیں جن سے بجر تضیع اوقات کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ورزشوں میں مقابلہ کا طریق رسول کریم ﷺ نے بھی استعمال فرمایا ہے۔بعض نادان احادیث میں ورزشی کھیلوں کا ذکر دیکھ کر اعتراض کیا کرتے ہیں کہ آپ کھیل دیکھتے تھے مگر وہ کھیل کھیل نہیں تھے بلکہ دشمن سے مقابلہ اور جنگ کرنے کی مشق تھی۔بخاری میں ایک حدیث ہے کہ آپ نے مسجد میں لڑائی کرائی اور