زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 136
زریں ہدایات (برائے طلباء) 136 جلد سوم موقع دو اور آئندہ کے لئے ان ان شرائط کو رکھ دو کہ ان کے ماتحت فوراً اپیل کی جائے۔تو گو میرا اپنا بنایا ہوا قانون تھا مگر اس کا احترام بھی ضروری تھا۔پس چاہے تمہاری مرضی کے خلاف کوئی قانون ہو اس کی بھی پابندی کرو اور اس کو بدلنے کے لئے جائز طریق سے کوشش کرو۔میں نے بتایا ہے کہ طبائع حریت چاہتی ہیں مگر دیکھو اس غلط حریت نے ہندو مسلمانوں کی کیا حالت بنادی ہے اور وہ اکالیوں سے کس طرح ڈر رہے ہیں۔کہتے ہیں کوئی شخص سرائے میں اُترا اور بھٹیاری کو کھانا پکانے کے لئے کہا۔وہ کھانا پکارہی تھی کہ کسی بات پر اس کو اس نے ناراض کر دیا۔بھٹیاری نے کچا پکا کھانا پکایا اس کی جھولی میں ڈال دیا جو ٹپکتا جارہا تھا۔کسی نے پوچھا یہ کیا ہے؟ کہنے لگا زبان کا رس ہے۔اب اخباروں والے لکھتے ہیں کہ گورنمنٹ اکالیوں کو کیوں نہیں روکتی مگر میں کہتا ہوں وہ تو وہی کچھ کر رہے ہیں جو تم کہتے تھے یعنی قانون کی خلاف ورزی۔اب کئی جگہ اکالیوں نے مسجد میں گرا دی ہیں، اذانیں دینے سے مسلمانوں کو روک دیا ہے اور ایسی نظائر موجود ہیں کہ مسلمانوں کی لڑکیاں بھگا کر لے جاتے ہیں۔آگے حج ڈر کی وجہ سے ان کے خلاف فیصلہ نہیں کر سکتے۔وہ کھلم کھلا کمین مسلمانوں کی لڑکیاں بھگا کر لے جاتے اور جا کر امیروں سے بیاہ دیتے ہیں۔ان کو لالچ وغیرہ سے ورغلا لیتے ہیں اور چیف کورٹ تک نے ان کے حق میں فیصلے دیئے ہیں۔یہ نتیجہ ہے قانون کے رعب مٹنے کا۔تم ہمیشہ قانون کا ادب کرو اور اس کی پابندی ضروری سمجھو۔صیحتیں ہیں جو میں نے اس وقت تمہیں کی ہیں اور میری سب سے بڑی نصیحت تو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے محبت پیدا کرو کیونکہ اس کے بغیر کوئی عمل عمل صالح نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ کی اور اس کے رسولوں کی محبت جڑ ہے اعمال صالحہ کی۔پس ہماری قوم کے جو اعلیٰ مقاصد ہیں اور جو اسے مد نظر رکھنے چاہئیں ان میں یہ تین محبتیں بھی ہیں (1) اللہ تعالیٰ سے محبت (2) رسول کریم سے محبت (3) حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے محبت۔اگر ان کی محبت ہماری قوم میں ہوگی تو وہ ہر قسم کی تباہیوں اور ہلاکتوں سے بچ جائیں گی۔مسلمانوں کی تباہی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے دلوں میں رسول کریم ﷺ کی محبت کے جذبات پیدا نہ کیے مگر عیسائی