زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 135

زریں ہدایات (برائے طلباء) 135 جلد سوم آم کے درخت اس قدر آموں کے بیج پیدا کرتے ہیں کہ اگر ان کے مخالف سامان نہ ہوں تو ساری دنیا پر آم ہی آم پھیل جائیں۔ان کے بیشتر حصہ کو خدا تعالیٰ ضائع کر دیتا ہے۔مگر اس سے یہ تو ظاہر ہے کہ ان میں زندہ رہنے اور بڑھنے کی کس قدر خواہش ہے اور اسی خواہش کی وجہ سے آم کے درخت موجود رہتے ہیں۔اسی طرح انسان ایک کیڑا سے بنتا ہے مگر ایک ایک انسان اس قدر کیڑے پیدا کر رہا ہے کہ اگر وہ تلف نہ ہوتے تو دنیا میں صرف انسان ہی انسان نہ سما سکتے۔تو ہر چیز میں یہ خواہش ہے کہ میں ہی میں رہوں اور اس طرح وہ زندہ رہتی ہے۔جس میں یہ خواہش نہ ہو وہ زندہ رہنے کے قابل نہیں ہوتی۔پس تم میں قومی طور پر یہ خواہش ہونی چاہئے کہ سب سے بڑھ جاؤ۔جب تم میں یہ احساس پیدا ہو گا اُس وقت تمہیں زندہ رہنے کا استحقاق پیدا ہو گا۔آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے اور ذرائع ہوں گے۔جب کسی میں یہ جذبہ کمزور ہو جائے تو وہ ترقی نہیں کر سکتا۔پس تم میں یہ خواہش ہونی چاہئے کہ سب سے بڑھ جاؤ ورنہ تم ترقی نہیں کر سکو گے۔پھر میں تمہیں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ جو افر مقرر ہوں گوان کی نگرانی گراں گزرتی ہے مگر خوش آئند نتائج پیدا کرتی ہے کیونکہ اس طرح اطاعت اور فرمانبرداری کا مادہ پیدا ہونا چاہئے۔لوگ حریت اور آزادی چاہتے ہیں مگر آزادی وہی مفید ہوسکتی ہے جو حدود کے اندر ہو۔اگر ایک شخص کپڑے پھاڑ کر پھینک دے اور نگا کھڑا ہو کر کہے کہ یہ حریت ہے تو اسے حریت نہیں کہا جائے گا بلکہ اس کا نام جنون رکھا جائے گا۔تم اس قسم کی حریت کے پاس تک نہ جاؤ جو لوگوں نے سمجھ رکھی ہے اور قانون کی پابندی کو فخر سمجھو۔اگر کوئی قانون نا جائز ہے تو اُسے جائز ذرائع سے بدلوانے کی کوشش کرو۔مگر جب تک وہ موجود ہے اُس کی پابندی کرو۔ایشیائی اور مغربی اقوام میں ایک بہت بڑا فرق یہی ہے کہ ایشیائی لوگ قانون کی پابندی نہیں کرتے لیکن مغربی لوگ کرتے ہیں اور یہ نہایت ضروری امر ہے۔یہاں ہی ایک واقعہ ہوا۔قاضی نے ایک فیصلہ کیا جس میں ضرورت تھی کہ مجرم فوراً اپیل کرے یا جرمانہ ادا کرے۔مگر جب یہ مقدمہ میرے پاس لائے کہ گو یہ قانون میرا ہی بنایا ہوا ہے کہ ایک ہفتہ اپیل کے لئے مہلت دی جائے لیکن اب کے