زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 124

زریں ہدایات (برائے طلباء) 124 جلد سوم پیدا کریں جو دوسروں سے ہمیں ممتاز کر دیں۔کیونکہ جب تک ہم میں اور دوسروں میں یہ امتیاز نہ ہو ہم دنیا کے سامنے بحیثیت قوم کے نہیں جاسکتے۔پس جس طرح ایک ہندو اور مسلمان کو شکل دیکھتے ہی لوگ معلوم کر لیتے ہیں کہ یہ ہندو ہے یا مسلمان اسی طرح ہر احمدی میں بھی ایسا امتیاز ہو کہ دیکھنے والا فورا اُسے احمدی سمجھ لے۔مگر کیا ایسا ہی ہوتا ہے؟ کیا لوگ احمدیوں کو شکل دیکھتے ہی پہچان لیتے ہیں؟ بعض کو پہچان لیتے ہیں مگر سب کو نہیں۔ہندوؤں میں سے شاید کسی ایک آدھ کو کوئی نہ پہچان سکے کہ یہ ہندو ہے مگر سب کو پہچان لیتے ہیں۔اسی طرح عیسائیوں کو اور اسی | طرح مسلمانوں کو۔مگر احمد یوں کو اس طرح نہیں پہچان سکتے۔کیونکہ احمدیوں کے اخلاق اور عادات میں دوسروں سے اس حد تک کھلا کھلا امتیاز نہیں کہ انہیں پہچان سکیں۔پس چاہئے کہ احمدی ایسے اخلاق بنائیں کہ فوراً پہچانے جاسکیں۔میں اس کے متعلق تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کہ شاید بعض پر گراں نہ گزرے مگر مختصراً یہ بتا دیتا ہوں کہ بعض وقت لوگ معلوم کر لیتے ہیں کہ فلاں شخص احمدی ہے۔اور اگر تم سٹڈی (Study) کرو گے تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیسے اخلاق ہیں جن کو دیکھ کر لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہ احمدی ہے۔اس بارے میں خوب مطالعہ کرو اور پھر ایسے اخلاق پیدا کرو۔ہر ایک احمدی جب اس طرح کرے گا تو احمدیوں کے الگ اور نمایاں اخلاق ہو جائیں گے اور دوسروں سے ممتاز ہو جائیں گے۔اس میں شک نہیں کہ ہمارے اخلاق اسلامی اخلاق ہیں اور ان لوگوں سے علیحدہ نہیں ہو سکتے جو مسلمان کہلاتے ہیں مگر ان لوگوں سے اسلامی اخلاق علیحدہ ہو رہے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ ان میں بھی بعض لوگ ایسے ہوں جن کو دیکھ کر کسی کو دھوکا لگ جائے کہ یہ احمدی ہے لیکن جب اپنے ارد گرد اخلاقی حلقہ کو مضبوط کرو گے تو ایسے لوگ تم میں آجائیں گے کیونکہ کثرت تمہاری ہوگی اور ان کا دل تم میں ہی لگے گا اور وہ تم میں جذب ہو جائیں گے۔اس طرح تھوڑے ہی عرصہ میں تم میں اور دوسرے لوگوں میں نمایاں فرق پیدا ہو جائے گا۔کیونکہ تمہاری عادات، تمہاری رسوم اور تمہارے اخلاق اسلامی ہوں گے اور ان کے غیر اسلامی۔