زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 125

زریں ہدایات (برائے طلباء) 125 جلد سوم اس بات کی تشریح کرنے کے لئے میں بعض ایسی باتیں لے لیتا ہوں جن کے بیان کرنے میں حرج نہیں اور دوسری چھوڑتا ہوں۔مثلاً ایک احمدی وقت پر نماز ادا کرنا فرض سمجھتا ہے مگر دوسرے لوگوں میں سے اگر کوئی نماز پڑھتا بھی ہے تو وہ یہ سوچتا رہتا ہے کہ اس قسم کی طہارت ہو، ایسی جگہ ہو۔وغیرہ وغیرہ۔ایک احمدی ایسا نہیں کرے گا بلکہ جب نماز قضاء ہونے کا ڈر ہوگا تو جس حالت میں بھی ہوگا پڑھ لے گا۔اور میرے نزدیک اگر کوئی شخص سر سے لے کر پاؤں تک نجاست میں لتھڑا ہوا ہومگر نماز کا وقت جارہا ہو اور وہ نماز پڑھ لے تو جائز ہے کیونکہ اصل نماز دل کی ہے ظاہری حالت اگر درست رکھنے میں معذوری ہو تو اس کی پرواہ نہیں کی جائے گی۔دیکھو بیماری میں انسان جب کھڑا نہیں ہو سکتا یا بیٹھ نہیں سکتا تو ظاہری حرکات کئے بغیر ہی نماز ادا کرتا ہے یا نہیں کرتا ؟ اور اس کو شریعت نے جائز قرار دیا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ نماز در اصل دل کی ہے۔پس اگر کپڑے ناپاک ہوں اور اگر یہی حالت ہو کہ پاک نہ ہو سکتے ہوں تو یہ نہیں کہ نماز پڑھنا منع ہے بلکہ ایسی صورت میں بھی فرض ہے کہ نماز کے لئے کھڑا ہو جائے مگر مسلمان ایسا نہیں کرتے۔کچھ عرصہ ہوا یہاں ایک دکن کے رئیس آئے میں نے ان کو نصیحت کی کہ نماز پڑھا کریں۔کہنے لگے گھر جا کر شروع کروں گا۔میں نے کہا یہ آپ کو کس طرح معلوم ہے کہ گھر جا کر آپ کو نماز پڑھنے کا موقع ملے گا بھی یا نہیں۔کہنے لگے سفر میں چونکہ بے احتیاطیاں ہو جاتی ہیں اس لئے کپڑے پاک نہیں رہ سکتے۔گھر جا کر پاک کر کے نماز شروع کروں گا۔میں نے بتایا اگر کوئی ایسی مجبوری ہو تو بھی نماز ضرور پڑھنی چاہئے نماز کسی صورت میں بھی چھوڑی نہیں جاسکتی۔میں رات کے بارہ بجے تک ان سے باتیں کرتارہا۔ان پر اتنا اثر ہوا کہ وہ صبح کی نماز میں شامل ہوئے اور نیند کی وجہ سے ان کی یہ حالت تھی کہ ان کے ملازموں نے بتایا اپنی جوتی پہننے کی بجائے اور جوتی پہن کر چلے گئے۔تو جس طرح احمدی پابندی کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں دوسرے لوگ نہیں پڑھتے۔یہ ایک علامت ہے جس سے لوگ پہچان سکتے ہیں کہ فلاں شخص احمدی ہے۔اسی طرح اور کئی باتیں ہیں جن سے لوگ احمدیوں کو پہچان سکتے ہیں۔اور جب احمدی اپنے اخلاق اور عادات اعلیٰ درجہ کے بنائیں گے تو آہستہ آہستہ ایسا ہو گا کہ ان کی شکلوں پر اثر پڑنا شروع