زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 123
زریں ہدایات (برائے طلباء) 123 جلد سوم کو مسلمان ہی کہتے ہیں کا فرنہیں کہتے۔ہاں اگر کسی میں کفر کی وجہ پیدا ہو جائے تو اور بات ہے۔غرض انہوں نے لکھا اور میں نے بتایا کہ ہم مسلمانوں کو کا فرنہیں کہتے بلکہ جو کافر ہیں ان کو کافر کہتے ہیں۔ان کو ایک پروفیسر ملا جو خواجہ کمال الدین صاحب کو بھی مل چکا تھا۔اس نے پوچھا تمہارے آپس میں کیا کیا امتیازات ہیں؟ ماسٹر صاحب لکھتے ہیں میں نے اسے بتایا کہ ہم یہ مانتے ہیں کہ مسلمانوں میں نقص آ گیا تھا اور وہ مسلمان نہیں رہے تھے۔ان کی اصلاح کے لئے حضرت مرزا صاحب آئے۔اب مسلمان وہی ہو سکتا ہے جو ان کی اصلاح یافتہ جماعت میں داخل ہو۔مگر خواجہ صاحب یہ نہیں مانتے۔یہ سن کر وہ پروفیسر کہنے لگا تم ضرور جیتو گے اور وہ ہار جائیں گے۔کیونکہ کوئی قوم اُس وقت تک محفوظ نہیں ہو سکتی جب تک اپنے ارد گرد دائرہ نہیں بنا لیتی۔اور جب اپنا علیحدہ دائرہ بنالیتی ہے تو اُسے ترقی کرنے اور بڑھنے کا احساس پیدا ہوتا ہے اور وہ بڑھنا شروع ہو جاتی ہے مگر دوسروں میں ملے رہنے سے یہ احساس نہیں پیدا ہوتا۔اس نے یہ بھی کہا کہ وہ لوگ جو دوسروں کے ساتھ ملا رہنا پسند کرتے ہیں وہ کچھ عرصہ فائدہ اٹھا لیں تو اٹھا لیں مگر کامیاب نہیں ہوں گے کامیاب تم ہی ہو گے جنہوں نے اپنا الگ حلقہ بنایا ہے۔اس گفتگو کو بیان کر کے ماسٹر مبارک علی صاحب لکھتے ہیں کہ اب مسئلہ کفر و اسلام کے متعلق | میری تسلی ہو گئی ہے۔چونکہ طبائع مختلف ہوتی ہیں اس لئے کسی کو کسی بات سے تسلی ہوتی ہے اور کسی کو کسی رنگ سے۔تو یہ بہت معقول بات ہے کہ جب تک کسی قوم کا حلقہ نہ ہو وہ ترقی نہیں کرسکتی۔بہترین حلقہ اخلاق اور عادات کا حلقہ ہے۔مسلمانوں میں سے لاکھوں انسان ایسے ہیں جو اسلام کا ذرہ بھی اپنے اندر نہیں رکھتے۔پھر اگر وہ ہندو نہیں ہوتے تو کیوں؟ اپنی عادات کی وجہ سے۔اسی طرح لاکھوں ہندو ہیں جن میں ہندو مذہب کا شائبہ بھی نہیں پایا جا تا عادات کے اس حلقہ کی وجہ سے جو ان کو گھیرے ہوئے ہے۔یہی عیسائیوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کا حال ہے۔ہر قوم کے گرد ایک حلقہ ہوتا ہے اور جب تک وہ قوم اس حلقہ کو مضبوط نہ کرتی رہے قائم نہیں رہ سکتی۔پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ اپنے ارد گر د اخلاق کا حلقہ بنائیں اور ایسے اخلاق فاضلہ