زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 109
زریں ہدایات (برائے طلباء) 109 جلد سوم ساتھ نہیں ہوتے۔بچے اکثر ماؤں کے ہی پاس رہتے ہیں۔اور دیکھا گیا ہے کہ دیندار مائیں بھی بچوں کو دین سکھانے میں سستی کر جاتی ہیں۔نماز کا وقت ہو جائے اور بچہ سورہا ہو تو کہتی ہیں ابھی اور سولے۔پس جب تک ماؤں کے ذہن نشین نہ کریں کہ بچوں کی دینی تربیت بچپن میں ہی کی جاسکتی ہے اُس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔پس پہلی نصیحت تو یہ ہے جس کے مخاطب والدین ہیں۔اور دراصل والد ہی ہیں کیونکہ اس وقت یہاں عورتیں نہیں ہیں کہ بچوں کی دینی تربیت بچپن میں ہی کرو اور بچپن میں ہی ان کو دین سکھاؤ تا کہ وہ حقیقی دیندار بنیں۔اس کے بعد میں بچوں کو مخاطب کرتا ہوں۔میں نے بتایا ہے کہ کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی جب تک بعد میں آنے والے ترقی یافتہ نہ ہوں۔اس لئے مجھے قدرتا بچوں کی تربیت سے بہت ہمدردی ہے۔لیکن کبھی کوئی کام عمدگی سے نہیں ہو سکتا جب تک اس کے کرنے کا طریق مد نظر نہ رکھا جائے۔اور ہمارے ملک میں مشکل یہ ہے کہ اس طریق کو مد نظر نہیں رکھا جاتا جس سے کسی کام میں کامیابی ہو سکتی ہے۔میرے نزدیک جس بات کی طرف سب سے پہلے توجہ کرنے کی ضرورت ہے اور جو نہایت خطر ناک طور پر پھیلی ہوئی ہے وہ بے استقلالی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا سب سے بڑی نیکی کا کام کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا ماں | باپ کی خدمت کرنا۔اس نے پھر پوچھا۔اور آپ نے پھر یہی جواب دیا 1 اسی طرح ایک شخص نے یہی سوال کیا تو آپ نے اس کی حالت کے مطابق اسے جواب دیا۔اور جب تک وہ پوچھتا رہا اسی کو دہراتے رہے 2۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہی سب سے بڑی نیکیاں ہیں۔بلکہ یہ کہ چونکہ ان میں اس کی خلاف ورزی سب سے بڑا نقص تھا اس لئے اسی کی طرف توجہ دلائی۔ہمارے ملک میں بھی ایک نقص ہے اور اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ سب سے بڑا کامیابی کا مگر کیا ہے تو میں یہی کہوں گا کہ استقلال۔پھر پوچھے گا تو یہی کہوں گا۔پھر پوچھے گا تو بھی یہی بتاؤں گا۔اور اگر کوئی دوسرا آدمی آکر پوچھے گا تو اس کو بھی یہی جواب دوں گا اور تیسرے کو بھی یہی حتی کہ جتنے پوچھتے جائیں گے اور جتنی بار پوچھیں گے یہی کہوں گا کہ ہر کام میں کامیابی حاصل کرنے کا