زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 110
زریں ہدایات (برائے طلباء) 110 جلد سوم گر استقلال ہے۔اس کے نہ ہونے کی وجہ سے ہر کام میں خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ایک شخص اٹھتا ہے اور کوئی کام شروع کرتا ہے پھر چھوڑ کر بیٹھ رہتا ہے۔اس طرح جو تھوڑا بہت کیا کرایا ہوتا ہے وہ بھی ضائع ہو جاتا ہے۔پس جب تک استقلال کی عادت بچوں میں اور ان کی تربیت کرنے والوں میں نہ ڈالی جائے اُس وقت تک ساری کوشش بے فائدہ ہے۔دیکھو آج تو یہاں جلسہ ہو رہا ہے لیکن اگر سال کے بعد اس کام سے متعلق کچھ بھی نہ ہو اور اسے چھوڑ دیا گیا ہو تو اس کا بچوں پر زیادہ مضر اثر پڑے گا۔کسی کام کے شروع کرنے کا ایک اثر ہوتا ہے مگر وہ عارضی ہوتا ہے۔اور کام کو چھوڑ دینے کا ایسا اثر ہوتا ہے کہ جن پر ہوتا ہے ان کو بھی اس کا پتہ نہیں لگتا۔مگر نہایت خطرناک ہوتا ہے۔ہر کام جو شروع کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے اس کا اثر بچوں پر یہ ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں بڑے ہمیں یہ تعلیم دے رہے ہیں کہ کسی کام کو لگا تار نہیں کرنا چاہئے اور اس طرح وہ کسی کام میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔لیکن اگر ان پر یہ اثر پڑے کہ جو کام شروع کیا جائے اسے کرتے ہی جانا چاہئے تو وہ ہر کام میں استقلال اختیار کریں گے اور کبھی نا کام نہ ہوں گے۔تو بے استقلالی ایک بہت بڑا نقص ہے۔یہ تو بچوں کی انجمن ہے۔اس نے مجھے بار بار اپنے جلسہ میں شامل ہونے کے لئے لکھا اور میں آج سے قبل نہ آسکا۔لیکن ایک بڑوں کی انجمن میں نے بنائی تھی۔پہلے پہلے میں اس میں خود شامل ہوتا رہا تا کہ کام چلنے لگ جائے۔لیکن جب سے میں نہیں گیا اس کے جلسے بھی بند ہو گئے ہیں۔اس کے سیکر ٹری کا دوسروں کو استقلال سے کام کرنے کا وعظ کرتے کرتے تو منہ خشک ہو جاتا ہوگا اور کام کرنے کی تجویزیں سوچتے سوچتے دماغ پراگندہ ہو جاتا ہوگا۔مگر وہ کام جو شروع کیا تھا وہ نہ کر سکے اور چھوڑ دیا۔وہ تجویز میں تو بڑی بڑی گورنمنٹوں کو بتانے کے لئے تیار ہوں گے مگر یہ چھوٹا سا کام بھی نہ کر سکے۔یہ ٹھیک ہے کہ کوئی اکیلا آدمی کام نہیں چلا سکتا۔لیکن اگر استقلال اختیار کیا جائے تو اگر سب میں نہیں تو کچھ آدمیوں میں ضرور استقلال پیدا ہو جائے گا۔اور ان کے استقلال کے ساتھ کام کرنے کا یہ نتیجہ ہوگا کہ آگے اور لوگوں میں استقلال پیدا ہو جائے گا۔یورپ کے لوگوں نے اس بات کو خوب۔