زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 108

زریں ہدایات (برائے طلباء) 108 جلد سوم اسی طرح ایک اور خرابی یہ ہے کہ اور تو ساری باتیں بچپن میں سکھانے کی خواہش کی جاتی ہے مگر دین کے متعلق کہتے ہیں کہ بچہ بڑا ہو کر سیکھ لے گا۔ابھی کیا ضرورت پڑی ہے۔بچہ نے ابھی ہوش نہیں سنبھالی ہوتی اور ڈاکٹر منع کرتا ہے کہ ابھی اسے پڑھنے نہ بھیجو گر ماں باپ اسے سکول بھیج دیتے ہیں۔اور گو وہ کہتے ہیں کہ چونکہ آوارہ پھرتا ہے اس لئے سکول میں بیٹھا رہے گا مگر ان کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ وہ سال جو اس کے ہوش میں آنے کے ہیں ان میں بھی کچھ نہ کچھ پڑھ ہی لے۔مگر نماز کے لئے جب وہ بلوغت کے قریب پہنچ جاتا ہے تب بھی یہی کہتے ہیں کہ ابھی بچہ ہے بڑا ہو کر سیکھ لے گا۔اگر یہ کہا جائے کہ بچے کو نماز کے لئے جگاؤ تو کہتے ہیں نہ جگاؤ نیند خراب ہوگی۔لیکن اگر صبح امتحان لینے کے لئے انسپکٹر نے آنا ہو تو ساری رات جگائے رکھیں گے۔گویا انسپکٹر کے سامنے جانے کا تو اتنا فکر ہوتا ہے مگر یہ نہیں کہ خدا کے حضور جانے کے لئے جگا دیں۔تو بچہ کو بچپن میں ہی دین سکھانا چاہئے۔جو بچپن میں نہیں سکھاتے ان کے بچے بڑے ہو کر بھی نہیں سیکھتے۔جس طرح بڑی عمر میں جو شخص علم سیکھنا شروع کرتا ہے وہ کبھی اعلی ترقی نہیں کر سکتا اسی طرح بڑی عمر میں دین بھی نہیں سیکھا جا سکتا۔مگر مصیبت یہ ہے کہ دنیا کے کاموں میں جو عمر بلوغت کی سمجھی جاتی ہے دین کے متعلق نہیں سمجھی جاتی۔18،18 سال تک کے لڑکے کے متعلق کہتے ہیں ابھی بچہ ہے دین کی پابندی کرانے کے لئے سختی کرنے کی ضرورت نہیں۔حالانکہ چھوٹا سابچہ جو چند سال کا ہوتا ہے اگر قلم اٹھا کر کہیں پھینک دیتا ہے تو اسے دھمکایا جاتا ہے۔اگر کسی کتاب کو پھاڑ دیتا ہے تو ڈانٹا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگر ابھی سے اسے نہ سمجھایا گیا تو چیزیں خراب کرنے کی عادت پڑ جائے گی۔لیکن اگر خدا کے دین کو خراب کرے تو کچھ نہیں کہا جاتا۔اور دین اُس وقت سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے جب لڑکا سمجھتا ہے کہ اب تو میں استاد ہوں اور میں دوسروں کو سکھا سکتا ہوں۔اور اس وجہ سے کچھ نہیں سیکھ سکتا۔پس جب تک ماں باپ یہ نہ سمجھیں گے کہ دین سیکھنے کا زمانہ بچپن ہے اور جب تک یہ نہ سمجھیں گے کہ ہمارا اثر بچپن میں ہی بچوں پر پڑ سکتا ہے تب تک بچے دیندار نہیں بن سکیں گے۔اور پھر جب تک عورتیں بھی مردوں کی ہم خیال نہ بن جائیں گی بچے دیندار نہیں ہوسکیں گے کیونکہ مرد ہر وقت بچوں کے